اسلام آباد(بشارت راجہ) فیض آباد دھرنہ نظرثانی کیس میں سپریم کورٹ نے ماضی میں سازباز سے درخواستیں مقرر نہ ہونے کو تسلیم کر لیا حکمنامہ میں لکھا گیا کہ دوسروں کے لیے مثال قائم کرتے ہوئے یہ عدالت سپریم کورٹ میں کی گئی ہیرا پھیری کو تسلیم کرتی ہے سپریم کورٹ عوام کااعتماد بحال کرنے کیلئے یہ سچ تسلیم کرتی ہے عدالت ثبوت دے گی کہ ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی سچائی انسان کو آزاد کرتی ہے اور اداروں کو مضبوط بناتی ہے پاکستانی عوام سچ سے کم کسی چیز کے مستحق نہیں لازم ہے کہ ہر ادارہ شفاف اور ذمہ داری سے کام کرے سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ 6 فروری 2019کو دیا عدالتی فیصلے میں ماضی کے پر تشدد واقعات کا حوالہ دیکر مستقبل کیلئے وارننگ دی گئی تقریباً پانچ سال گزرنے کے باوجود حکومتوں نے فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد نہ کیافیض آباد دھرنے کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستیں دائر ہوئی جنھیں سماعت کیلئے مقرر نہ کیانظرثانی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر نہ ہونے کے سبب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا فیض آباد دھرنا فیصلے کے تناظر میں نہ کسی کو زمہ دار ٹھہرایا گیا نہ ہی پر تشدد احتجاج پر احتساب ہوا نتیجتاً قوم کو 9مئی کے واقعات دیکھنے پڑے۔















