بہاول پور(نیوزڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ڈرگ مافیا نئی نسل پر حملہ آور ہے ملک کی 237 یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم لاکھوں طالبات عدم تحفظ کا شکار ہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ڈرگ مافیا اپنے پنجے گاڑ رہا ہے اور بچوں کے کردار کو داغدار کر رہا ہے وفاقی اور صوبائی حکومت نے 8 تحقیقاتی کمیٹیاں بناکر مٹی پاؤ پالیسی اپنائی ہے قوم کا یہ مطالبہ ہے کہ اگر اسلامیہ یونیورسٹی کو داغدار کرنے والے کرداروں کو عبرت کا نشان نہیں بنایا تو ہم چوکوں اور چوراہوں میں اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔وہ اسلامیہ یونیورسٹی کے سامنے جماعت اسلامی کی جانب سے تعلیم بچاؤ مارچ سے خطاب کر رہے تھے۔سراج الحق نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف قوم کو بتائیں کہ ایک ہی روز میں پارلیمنٹ سے پاس کیے جانے والے بل جن میں 25 یونیورسٹیوں کی منظوری شامل ہے وہ پاکستان کے کس علاقوں میں بنے گی ملک کے سرمایہ داروں نے اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے یونیورسٹیاں بنانے کا کام شروع کیا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کمائی کا بہترین اور منافع بخش ذریعہ ہے میں بہاول پور صرف اسلامیہ یونیورسٹی کے لیے نہیں بلکہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے میدان میں نکلا ہوں کیونکہ تعلیمی اداروں میں پنپنے والی مافیا سے ہماری ثقافت اور کلچر کو بھی شدید خطرہ ہے۔ملک میں پہلے آٹا اور چینی مافیا تھا اب اسس مافیا نے تعلیمی اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ملک میں مغربی ایجنڈے کے تحت این جی اوز کے ذریعے تعلیمی نظام کو تباہ کیا جارہا ہے۔سراج الحق نے مزید کہا کہ شہباز شریف نے قوم پر جاتے جاتے پٹرول اور ڈیزل کے بم گرائیں ہے اور بجلی کے جھٹکے دیئے ہیں ہماری یہ خواہش ہے کہ وہ اسلامیہ یو نیورسٹی کے کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچا کر تعلیمی اداروں کے تقدس کو بحال کرنے کی ہماری جدوجہد میں شامل ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ 76 ارب روپے پروٹوکول پر خرچ کیے جارہے ہیں اور پنجاب حکومت 300 ارب روپے بیوروکریسی کی نئی گاڑیوں کے خریدنے پر خرچ کر رہی ہیں۔سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک سازش کے تحت اسلامیہ یونیورسٹی کا روشن چہرہ داغدار کیا گیا جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کو بحال کیا جائے سمسٹر سسٹم کو ختم کرکے پرانا اتحانی نظام بحال کیا جائے۔















