لاہور (اے بی این نیوز) پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ بیٹنگ کرتے ہوئے ان کی اولین ترجیح ہمیشہ ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ٹیم کو تیز رنز درکار ہوں تو وہ اسی انداز میں کھیلتے ہیں، جبکہ مشکل حالات میں دفاعی حکمت عملی اپنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ایک پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی کپتانی ان کے لیے ہمیشہ اعزاز رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اب بہتر منصوبہ بندی، زیادہ اعتماد اور مثبت سوچ کے ساتھ ٹیم کی قیادت کریں گے۔
بابر اعظم نے کہا کہ کپتانی کے ساتھ وقت گزرنے پر فیصلوں میں پختگی اور واضح سوچ آتی ہے۔ انہوں نے اپنی قیادت کے دوران کیے گئے فیصلوں کا جائزہ لیا اور ان سے سیکھنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور مشکل حالات میں ان کا اعتماد بحال رکھنا ایک کپتان کی اہم ذمہ داری ہے، کیونکہ انٹرنیشنل کرکٹ دباؤ کا کھیل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں منعقد ہونے والا ریڈ بال کیمپ ٹیم کی تیاری کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا، جہاں کھلاڑیوں نے مختلف میچ حالات، دباؤ اور مشکل کنڈیشنز میں کھیلنے کی مشق کی۔ ان کے مطابق سخت ٹریننگ ہی کھلاڑیوں کو بڑے مقابلوں کے لیے تیار کرتی ہے۔
بابر اعظم نے آئندہ دورۂ ویسٹ انڈیز کو چیلنجنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ انہوں نے کہا کہ کئی قومی کھلاڑیوں کے پاس کاؤنٹی کرکٹ کا تجربہ موجود ہے، جو انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز جیسی کنڈیشنز میں ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
قومی کپتان نے مزید کہا کہ وہ مثبت تنقید کو ہمیشہ خوش دلی سے قبول کرتے ہیں اور مفید مشوروں پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کامیاب نتائج ایک یا دو میچز میں نہیں آتے بلکہ مستقل محنت، ڈسپلن، فٹنس اور بہتر روٹین سے حاصل ہوتے ہیں۔
بابر اعظم نے شائقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی عوام کی قومی ٹیم سے توقعات بہت زیادہ ہیں اور پوری ٹیم ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ میدان میں اترے گی۔
مزید پڑھیں:ملک کے اہم ایئرپورٹس نجکاری کی فہرست میں،حکومت کا نیا پلان تیار















