اہم خبریں

اسحاق ڈار کے نگراں وزیراعظم بننے میں قانونی رکاوٹ ہوسکتی ہے،خواجہ آصف

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیردفاع خواجہ آصف نے نگراں وزیراعظم کے لیئے اسحاق ڈار کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عہدے کے لیے اسحاق ڈار ایک معقول شخصیت ہیں ،مگر اسحاق ڈار کے نگراںوزیراعظم بننے میں قانونی رکاوٹ ہو سکتی ہے اور اسحاق ڈار کے نگراں وزیرعظم بننے سے الیکشن پر سوالیہ نشان بھی آ جائے گاکیونکہ نگران وزیراعظم کا کردار امپائر کا ہوتا ہے، اسحاق ڈار نے نگراں وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار کبھی نہیں کیا، ہمارے کسی اجلاس میں بھی اس پر بات نہیں ہوئی،جس کی بھی یہ تجویز ہے، اس نے ٹھیک بات نہیں کی،سوشل میڈیا پرنگراں وزیراعظم کے لئے جو بھی نام آرہے ہیں ان میں سے کوئی بھی زیر غور نہیں‌ہے، قومی اسمبلی دو چار روز قبل بھی تحلیل ہو سکتی ہے، بروقت انتخابات میں کوئی شبہ نہیں ہے،انتخابات غیر جانبدارانہ ہونگے، پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں ہر الیکشن پر سوالیہ نشان آیا ہے، نگراں سیٹ اپ غیر جانبدار ہوگا،اس حوالے سے ہمیں موقع نہیں دینا چاہیے کہ لوگ ہماری طرف انگلیاں اٹھائیں، نگراں وزیر خزانہ ایسا ہونا چاہیے، جسے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدے کی سمجھ بوجھ ہو، کسی شک و شبے کے بغیر ہر حال میں انتخابات ہوتے نظر آ رہے ہیں، ہم بڑی مشکل سے دیوالیہ ہونے سے بچے ہیں، 13ماہ وزیر اعظم شہباز شریف نے جو کردار ادا کیا وہ شاید ہی کوئی اور ادا کر سکتا تھا، آئی ایم ایف معاہدے پر دستخط کر ناقابل فخربات نہیں، اتحادی حکومت نے ہمالیہ جیسے مسائل حل کیے،چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے مخالفین پر الزامات کی بھرمار کی، نیب اور ایف آئی اے کے کیسز بنائے۔ ایک ایسا شخص جو ساری دنیا کو بدیانت کہتا ہے،میرا خیال ہے کہ قوم کا یہ مقروض ہے اور چیئرمین پی ٹی آئی کو یہ قرض اتارنا پڑے گا،پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی ہے، جس طرح ہم لوگوں نے درجنوں تحقیقات کا سامنا کیا ہے، اب عمران خان کو اسی قانون کا سامنا کرنا ہوگا، پیر کو اے بی این ٹی وی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاکہ نگراں وزیراعظم کے لیئے اسحاق ڈار معقول شخصیت ہیں، مجھ سے پوچھا جائے تو میں نگراں وزیراعظم کے لیے اسحاق ڈار کا ہی کہوں گا، میرا اسحاق ڈار کے ساتھ بہت اچھا تعلق ہے ،انہوں نے کہاکہ نگران وزیراعظم کا کردار امپائر کا ہوتا ہے کسی سیاسی جماعت کے عہدے دار کو اگر یہ عہدہ دیا جاتا ہے تو الیکشن پراسس پر سوالیہ نشان ہوگا ،انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا پرنگراں وزیراعظم کے لئے جو بھی نام آرہے ہیں ان میں سے کوئی بھی زیر غور نہیںہے،اسمبلیوں کی تحیل کے معاملے پر وزیردفاع نے کہاکہ قومی اسمبلی دو چار روز قبل بھی تحلیل ہو سکتی ہے، خیبر پختونخوا اسمبلی بھی آئین کے مطابق تحلیل ہوئی تھی تاہم انہوں نے کہاکہ ہمیں اس معاملے میں قانون وآئین کو بھی دیکھنا پڑے گاکیونکہ قانون اور آئین کے تحت ہی ہم کوئی تقرری کر سکتے ہیں، ہمیں چیزوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہاکہ 13ماہ وزیر اعظم شہباز شریف نے جو کردار ادا کیا وہ شاید ہی کوئی اور ادا کر سکتا تھا، انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف معاہدے پر دستخط کر ناقابل فخربات نہیں، اتحادی حکومت نے ہمالیہ جیسے مسائل حل کیے،انہوں نے کہاکہ الیکشن کی تیاری کا آغاز ہو چکا ہے، عوام ووٹ کی طاقت سے آنے والے حکمرانوں کو منتخب کریں گے، ہمارے پاس چوائس تھی کہ فوری طور پر اسمبلیاں تحلیل کر دیتے لیکن ایسا کرنے سے معیشت مزید تباہ ہو جاتی،ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی سیاسی جماعتیں عام انتخابات کیلیے مشترکہ امیدوار لانے یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا لائحہ عمل اپنائیں گی۔انہوں نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے مخالفین پر الزامات کی بھرمار کی، نیب اور ایف آئی اے کے کیسز بنائے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا شخص جو ساری دنیا کو بدیانت کہتا ہے،میرا خیال ہے کہ قوم کا یہ مقروض ہے اور عمران خان کو یہ قرض اتارنا پڑے گا،انہوں نے کہاکہ پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی ہے، جس طرح ہم لوگوں نے درجنوں تحقیقات کا سامنا کیا ہے، اب عمران خان کو اسی قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں