اسلام آباد(رانا فرخ سعید)خوش اخلاقی رضا مندی نہیں ہے،خاتون کو دفتر سے باہر ملاقات کی دعوت دینے، ہاتھ چھونے پر نجی کمپنی کے پانچ عہدیداروں کو 27 لاکھ جرمانہ، وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کے فیصلے کے مطابق 5 لاکھ 40 ہزار روپے سرکاری خزانے میں جمع ہوں گے جبکہ 21 لاکھ 60 ہزار روپے شکایت گزار کو بطور معاوضہ ادا کیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق پاپولر کیمیکل مینوفیکچرنگ انڈسٹری پرائیوٹ لمیٹیڈ کی اسسٹنٹ پراڈکٹ ڈویلپمنٹ مینجر خاتون نے گزشتہ سال ستمبر میں وفاقی محتسب میں دی گئی درخواست میں موقف اپنایا کہ ڈائریکٹر ذوالفقار علی روشن، جی ایم آپریشن اینڈ پراجیکٹس سید کاظم علی، کامران علی روشن و دیگرمختلف عہدوں پر فائز افراد نے اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا،میٹنگ کے دوران ذاتی اور غیر پیشہ ورانہ جملے کہے،دفتر سے باہر ملاقات کی دعوت دی،پروڈکٹ سیمپل دکھاتے وقت اس کا ہاتھ پکڑا۔
دوسرے ملزم نے نجی پیغامات کی تصاویر لیں،تیسرے ملزم نے شکایت کو آگے بڑھانے سے روکا اور وہ سی سی ٹی وی ریکارڈ محفوظ نہ کر سکا جسے اس نے خود دیکھا تھا،چوتھے ملزم نے انتقامی کارروائی کی ہدایت دی اور ادارے میں قانونی تقاضوں کے مطابق کمیٹی قائم نہ کی،پانچویں ملزم نے شکایت گزار کو قانونی نوٹس کے بعد دھمکی آمیز فون کال کی۔
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے فیصلے میں لکھا کہ شکایت گزار کی شخصیت،لباس یا سماجی رویہ مقدمے کا حصہ نہیں ہیں،خوش اخلاقی کو رضامندی نہیں سمجھا جا سکتا اور نوکری جاری رکھنے یا شکایت میں تاخیر کرنے سے مقدمہ کمزور نہیں ہوتا۔
اپنے دفاع میں ملزمان نے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیا اور اپنا دفاع شکایت گزار کی شخصیت، لباس اور نجی زندگی پر مرکوز کیا تاہم شواہد،گواہیوں اور تضادات کی بنیاد پر ہراسگی اور انتقامی کارروائی ثابت ہوئی ہے،فیصلے کے مطابق مجموعی طور پر 27 لاکھ روپے جرمانہ عائد جس میں سے 5 لاکھ 40 ہزار روپے سرکاری خزانے میں جمع ہوں گے جبکہ 21 لاکھ 60 ہزار روپے شکایت گزار کو بطور معاوضہ ادا کیے جائیں گے۔
ادارے کو ہدایت دی گئی ہے کہ پندرہ دن کے اندر شکایت گزار کو اس کا تجربہ نامہ، کلیئرنس، تنخواہ اور واجبات فراہم کرے اور تیس دن کے اندر انسدادِ ہراسگی کمیٹی کو نئے سرے سے تشکیل دے۔
مزید پڑھیں:ایرانی ریال خریداروں کے لیے اہم خبر، مارکیٹ کی تازہ اپڈیٹ















