اسلام آباد (اے بی این نیوز )سینیٹر ذیشان خانزادہ کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس منعقد ہوا جس میںمختلف ممالک سے اشیائے ضروریہ کی درآمد سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ گوشت کی برآمدات ہونے کی شکایات آ رہی ہے،ہم روزانہ ایک لاکھ گائے اور دنبے روزانہ ذبح کررہے ہیں،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا آفریدی نے کہا کہ افغانستان سے سستا گوشت ایکسپورٹ کیا جا سکتا ہے،پی آئی اے آم کی ایکسپورٹ کیلئے کارگو فلائٹس میں اضافہ کرے،آم کی ایکپسورٹ میں اضافہ کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے، اس موقع پر سیکرٹری وزارت تجارت نے وضاحت کی کہ افغانستان سے جانوروں کی درآمدات پر پابندی لگی ہوئی تھی،اپنی زمین پرذبح ہوئے بغیر گوشت ذبح نہیں ہوتے اس پر اعتماد نہیں کرتے،دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ہاں جانوروں کی درآمد پر پابندی لگائی ہوئی تھی،تقی عثمانی اور دیگر علماء کے فتوے موجود ہیں کہ ذبح ہماری زمین پر ہو،جانوروں کی ایکسپورٹ کیلئے خصوصی کرونٹائن سرٹیفکیشن ضروری ہے،اگر افغانستان میں ڈیزیز فری زون بنے تو وہاں سے درآمد کی جا سکتی ہے،افغانستان بین الاقوامی جانوروں کی ڈیزیز سرٹیفکیشن لسٹ میں ہی نہیںپاکستان کا بین الاقوامی اینمل ڈیزیز کورنٹائن لسٹ میں دوسرے نمبر پر ہے۔















