اسلام آباد( اے بی این نیوز ) پاکستان اور بیلاروس کی حکومتوں کے درمیان زرعی تعاون پر مشترکہ ورکنگ گروپ کا چھٹا اجلاس منگل کو ہوا۔وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ اور تحقیق طارق بشیر چیمہ نے اجلاس کی مشترکہ صدارت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس تمام شعبوں بالخصوص زرعی شعبے میں شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ ورکنگ گروپ اور مشترکہ وزارتی کمیشن کا قیام تعاون کے مواقع تلاش کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے زراعت کے شعبے میں تعاون کے لیے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے مفاہمت کی یادداشتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات دونوں فریقین کو فصلوں کی پیداوار، فوڈ پروسیسنگ، بیج کی پیداوار اور آبپاشی انتظام کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہونگے۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ بیلاروس نے زرعی مشینری کی پیداوار میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور پاکستان بیلاروس کی مہارت سے ٹریکٹروں کی تیاری، جدید مذبح خانوں کے قیام، مویشیوں کی نسلوں کی بہتری، دودھ پراسیسنگ یونٹس کی تنصیب جیسے شعبوں میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور بیلاروس پائیدار زراعت کے فروغ، غذائی تحفظ کو بڑھانے اور شہریوں کے لیے غذائیت کو بہتر بنانے کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے اپنی مہارت کو بروئے کار لانے کے لیے مل کر کام کرتے رہے گے۔بیلاروس جمہوریہ کے زراعت اور خوراک کے نائب وزیر وادیم شگوئیکو نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تجارتی حجم میں اضافہ جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بیلاروس ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، جہاں بیلاروس پاکستان کو ڈیری مصنوعات، بے بی فوڈ اور بے بی پاؤڈر برآمد کرتا ہے، جب کہ پاکستان بیلاروس کو پھل، کھجور، چاول اور کنفیکشنری اشیاء برآمد کرتا ہے۔انہوں نے تجارت کو آسان بنانے خصوصاً حلال گوشت کی تصدیق میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سائنسی تحقیق اور مشترکہ منصوبوں میں تعاون سے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ ملاقات کے دوران پاکستانی فریق نے بیلاروس کی منڈیوں میں چاول، آلو، لیموں اور آم کی براہ راست سپلائی بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔مشترکہ ورکنگ گروپ نے مشترکہ وینچر کے ذریعے خشک پاؤڈر پلانٹ کے قیام اور ریگولیٹڈ اشیا کی تجارت کے لیے فائیٹو سینیٹری اقدامات کو ہم آہنگ کرنے میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔ دونوں اطراف نے بیلاروس کو پکا ہوا گوشت کی مصنوعات کے لیے پاکستانی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنے اور کیلے، امرود، چیری، اسٹرابیری، خربوزے اور دیگر پھلوں کی برآمد کے لیے پاکستان کو مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنے پر بھی بات کی۔ پاکستانی فریق نے ملاقات میں دودھ کی پروسیسنگ اور ڈیری پروڈکشن کی ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔ جمہوریہ بیلاروس بین الاقوامی تجارتی میلے پر نمائش کرے گا، جو 10-11 مارچ 2023 کو کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوگا۔















