اسلام آباد (نیوزڈیسک)سپریم کورٹ نے کہا ہے معزز جیسے القابات کو عدالتوں کے لیے استعمال نہیں کیا جاناچاہیے، سپریم کورٹ، ہائیکورٹس کے لیے ’معزز‘ کا لقب استعمال کرنے متعلق تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسٹیٹ لائف انشورنس کے ملازم کے کیس میں حکم جاری کیا جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ امید ہے کہ ججز ، وکلا اور درخواست گزار خوشامدی اور متعصب ہونے کے تاثر سے گریز کریں گے۔انہوں نے اپنے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ آئین پاکستان میں معزز یا عزت ماب جیسے القابات عدالتوں کے لیے نہیں لکھے گئے ۔ پارلیمنٹ ، قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے معزز کا لفظ کوئی استعمال نہیں کرتا لیکن سپریم کورٹ یا ہائی کورٹس کے لیے معزز عدلیہ کا لقب استعمال ہورہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ برطانوی پارلیمنٹ جو پارلیمانی نظام کی ماں کہلاتی ہے وہاں بھی معزز پارلیمنٹ نہہں لکھا جاتا ہے، ججز یا ارکان پارلیمنٹ کو معزز ممبران لکھنے میں حرج نہیں ہے ۔جسٹس فائز عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کیس کی سماعت کے دوران وکیل نے باربار معزز سپریم کورٹ کہا ، استفسار پر وکیل نے بتایا کہ لاہور کورٹ کے فیصلے میں سولہ مرتبہ معزز سپریم کورٹ لکھا گیا ۔















