اسلام آباد ( اے بی این نیوز )وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان کی زیر صدارت سنٹرل ایپیکس کمیٹی کے تحت قائم کی گئی کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ،اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، ڈی جی ایف آئی اے، نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا، آئی جی اسلام آباد،چیف کمشنر اسلام آباد اورسیکیورٹی اداروں کے نمائندوں ،اجلاس میں تمام صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور آئی جیز کی بھی آن لائن شرکت،اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،تمام صوبوں کی جانب سے ایپیکس کمیٹی کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں پر پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،وزیر داخلہ نے کہا کہ اگلے اجلاس میں ہر ادارہ اپنے احداف واضح کرے اور ان پر عملدرآمد کا ٹائم فریم بھی مہیا کیا جائے، تاکہ اس سلسلے میں ہونے والی پیشرفت کا موثر طریقے سے جائزہ لیا جا سکے، دہشت گردی ایک ناسور ہے جس کے خلاف جامع اور موثر قومی حکمت عملی درکار ہے،لوگوں کو جان و مال کے تحفظ کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، ملکی ترقی بھی اسی میں مضمر ہے کہ لوگوں کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو، ہم دہشت گردوں کے قلع قمع کے لئے وہ تمام ذرائع ختم کریں گے جس سے انہیں مدد اور طاقت ملتی ہے، سی ٹی ڈی اور انسداد دہشت گردی کے دیگر اداروں کی استعداد بڑھانے اور ان کو مکمل آپریشنلائز کرنےکیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات لئے جائیں، پوری قوم بالخصوص سیکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ جذبے اور شجاعت کا مظاہرہ کیا ہے، اس ناسور کا مکمل خاتمہ اسی جذبے اور عزم سے ہی ممکن ہے، شہدا کے اہل خانہ اور زخمیوں کی دیکھ بھال میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے، اور ان کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی جائے۔















