اسلام آباد (رضوان عباسی) وفاقی دارالحکومت کے ایوانِ اقتدار میں جہاں اہم فیصلے ہوتے ہیں وہاں ایک بااثر بیوروکریٹک نیٹ ورک بھی سرگرم ہے جو حکومتی نظام کے مختلف امور میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی بیوروکریسی میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے تئیسویں کامن کے افسران ایک مضبوط گروپ کی صورت میں سامنے آئے ہیں جسے اسلام آباد کی بیوروکریسی کا طاقتور سرکل قرار دیا جا رہا ہے۔رونامہ اوصاف کو حاصل معلومات کے مطابق اس گروپ کی بنیاد 19 نومبر 1995 کو پڑی جب سول سروس میں شامل ہونے والے افسران نے کامن ٹریننگ پروگرام میں ایک ساتھ تربیت حاصل کی۔ گزشتہ تقریباً تین دہائیوں کے دوران یہ افسران وفاق، صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے اور اب ان میں سے کئی وفاقی حکومت کے اہم ترین محکموں میں تعینات ہیں۔
بڑی خبر،ٹرمپ کا جنگ بندی کا اعلان
ذرائع کے مطابق تئیسویں کامن کے افسران اس وقت خزانہ ڈویژن، تجارت ڈویژن، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، نیشنل سیکیورٹی ڈویژن، بین الصوبائی رابطہ، نیشنل فوڈ سیکیورٹی، ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور وزارت داخلہ میں اہم عہدوں پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ اوصاف نے ان افسران کے سروس پیریڈ اور ریٹائرمنٹ سے متعلق معلومات بھی حاصل کر لی ہیں۔تفصیلات کے مطابق سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال 13 جون 2032 کو ریٹائر ہوں گے۔ کفایت شعاری کے دعوؤں کے باوجود حکومتی اخراجات پر مؤثر کنٹرول نہ ہو سکا۔ سیکرٹری تجارت جواد پال 13 فروری 2030 کو ریٹائر ہوں گے جبکہ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا اور ایکسپورٹس تقریباً بارہ سال پہلے کی سطح کے آس پاس ہی ہیں۔چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو راشد محمود لنگڑیال 12 اپریل 2033 کو ریٹائر ہوں گے اور ان کی سروس کے تقریباً سات سال باقی ہیں، تاہم رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں ریونیو میں چھ سو ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آیا ہے۔ سابق سیکرٹری پیٹرولیم مومن آغا 5 نومبر 2028 کو جبکہ سیکرٹری محی الدین وانی 9 فروری 2030 کو ریٹائر ہوں گے۔اسی طرح نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے سیکرٹری مصدق احمد خان 19 جولائی 2029 کو، نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کے سیکرٹری ساجد بلوچ 19 فروری 2030 کو اور سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیپٹن (ر) محمد محمود 27 ستمبر 2030 کو ریٹائر ہوں گے، جبکہ سپیشل سیکرٹری داخلہ محمد داؤد بریچ 7 جون 2026 کو ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جائیں گے۔ذرائع کے مطابق تئیسویں کامن کے افسر خاقان مرتضیٰ ریٹائر ہو چکے ہیں جبکہ اسی بیچ کے افسر محمد عبداللہ سمبل انتقال کر چکے ہیں، تاہم اس گروپ کے کئی افسران اب بھی اہم وفاقی عہدوں پر موجود ہیں۔
بیوروکریسی کے حلقوں میں اس گروپ کو ایک مؤثر پاور سرکل قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان افسران کے درمیان قریبی رابطہ اور اندرونی کوآرڈینیشن موجود ہے اور بیوروکریسی سے متعلق معاملات پر باہمی مشاورت کے لیے ایک واٹس ایپ گروپ بھی قائم ہے۔ مبصرین کے مطابق اسلام آباد کی سیاست میں جہاں سیاسی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں وہیں بیوروکریسی کا یہ منظم نیٹ ورک بھی حکومتی فیصلوں میں نمایاں اثر رکھتا ہے۔















