اہم خبریں

ہمیں قرضوں اور غیر ملکی امداد پر انحصار سے گریز کرنا ہوگا،چیئرمین سینیٹ

اسلام آباد ( اے بی این نیوز   )چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت کی بہتری اور ترقی و خوشحالی کے لیے ہم سب کو مل کرکام کرنا ہو گا۔ موجودَہ حالات میں ایسے موضوعات پر سیمینارز بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

ایسے مواقعوں سے ہمِیں معیشت کو درپیش مسائل کا ادراک ہوتا ہے۔ ہماری معیشت ایک اہم دوراہے پر کھڑی ہے۔ وہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے ، انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر،منتظمین اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جن کی بدولت اس اہم کانفرنس کا انققاد ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ

ہمارے فیصلوں کے دور س نتائج مرتب ہونگے۔ افراط زر نے متوسط طبقے کی فلاح و بہبود پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔ ہماری معیشت تقریباً ایک دہائی تک جمود کا شکار رہی ہے۔

ملک میں شرح سود میں اضافے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں اور صنعتوں کا بقا خطرے میں پڑ گیا ہے۔ در آمدات پر بڑے پیمانے پر پاپندیوں کی وجہ سے معیشت کے فروغ میں مسائل سامنے آئے۔
اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی میں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔

یہ رجحان مزید مستحکم اور حوصلہ افزائی کا متمنی ہے۔ توانائی کا بحران اور خاص طور پر بجلی اور گیس کی قیمتوں میںح اضافہ موثر حکمت عملی کا تقاضہ کرتا ہے۔ یہ عوامل محدود سرمایہ کاری، فی کس آمدن میں کمی، بڑھتی ہوئی بیروزگاری کا باعث بن رہے ہیں۔

ملکی معیشت کی بہتری، سرمایہ کاری میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لئے ایک جامع فریم ورک کی اشد ضرورت ہے۔ ملک کی معیشت کی بحالی کے لئے جامع اور پائیدار ترقی کا فروغ ناگزیر ہے۔ ملکی معیشت کی ترقی و خوشحالی کے لئے ہمیں خود انحصاری کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

ہمیں قرضوں اور غیر ملکی امداد پر انحصار سے گریز کرنا ہوگا۔ ہماری سرمایہ کاری سے ڈی جی پی کا تناسب 13 فیصد تک گر گیا ہے۔ قرضے لے کر سرمایہ کاری بڑھانے کے طریقہ کا ر کی تجاویز کو بدلنا ہوگا۔
بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات اور برآمدات میں اضافہ کے لئے حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

ادائیگیوں کے توازن کو حکمت عملی کے تحت بہتر بنانا ہوگا۔ پاکستانی قوم فطری طور پر ہوشیار اور باصلاحیت ہے۔ جتنی زیادہ ملک میں سرمایہ کاری و تجارت ہو گی اتنا ہی ملک کی معاشی و سماجی ترقی میں بہتری ہو گی۔ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں نے نئے مواقع پیدا کر دیئے ہیں۔
ملکی معیشت کی بہتری، کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لئے ہم سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ جامع ترقی کے حصول کے لئے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعت سمیت تمام پیشہ وارانہ شعبوں میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانا ہوگا۔

خوش قسمتی سے پاکستان کے پاس انسانی وسائل کا بہت بڑا خزانہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فنی مہارت اور تربیت کے ذریعے انسانی وسائل کو ملک کا قیمتی اثاثہ بنایا جائے۔
پاکستان کی ترقی وخوشحالی سے ہم سب کی ترقی ممکن ہے۔
مزید پڑھیں :پاکستان کو دنیا بھر سے ملانے والی دو فائبر آپٹیکل کیبل مختلف جگہوں سے کٹنے کی اطلاع

متعلقہ خبریں