تل ابیب(نیوزڈیسک)اسرائیلی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ سعودی عرب، اسرائیل کے اُن مسلمان شہریوں کے لیے براہ راست پروازوں کی اجازت دے گا جو آئندہ ماہ حج کی سعادت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ اس حوالے سے ایک درخواست جمع کرائی گئی اور ”یہ مسئلہ زیر بحث ہے۔“ایلی کوہن نے کہا کہ ”میں آپ کو یہ نہیں بتاسکتا کہ کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔“ لیکن میں پر امید ہوں کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ امن کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر سال حج کے لیے مکہ مکرمہ جاتے ہیں، جو 1,377 سال قبل نبی کریم ﷺ کے اعمال کی پیروی ہے۔اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار حج کرنا تمام مالی وسائل کے حامل مسلمانوں پر فرض ہے اور ہر سال 20 سے 30 لاکھ افراد اس چھ روزہ عبادت میں شرکت کرتے ہیں۔حج اسلامی قمری کیلنڈر کے 12ویں مہینے میں ہوتا ہے، جسے ذوالحجہ کہا جاتا ہے، اور مہینے کی آٹھویں اور 13ویں تاریخوں کے درمیان ادا کیا جاتا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے پیشرو یائر لپید نے مارچ میں کہا تھا کہ بطور وزیر اعظم 2022 میں انہوں نے براہ راست پروازوں کے لیے سعودی رضامندی حاصل کی تھی۔ تاہم، سعودی عرب نے اس کی تصدیق نہیں کی۔















