اہم خبریں

برطانوی شہزادہ ہیری کا ہم شکل سامنے آگیا، زندگی خطرات سے دوچار،حملے کا خدشہ

لندن (نیوزڈیسک)برطانوی شہزادہ ہیری ولیم کی کتاب سامنے آنے کے بعد شہزادہ ہیری کا ہم شکل بھی سامنے آگیا جس نے خدشات ظاہر کئے ہیں کہ شہزادہ ہیری کی کتاب میں نت نئے انکشافات کے بعد اس کی زندگی کو زیادہ خطرات لاحق ہوچکے ہیں ۔ لوگ اسے شہزادہ ہیری سمجھ کر ایسے ہی ٹریٹ کررہے ہیں جیسے وہی شہزادہ ہیری ہے۔ شہزادہ ہیری کے ہمشکل نے انکشاف کیا کہ ، ہیری کے ہمشکل نے ہیری کی حالیہ کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد اپنے خوف کا اظہار بھی کر دیا۔شہزادہ ہیری نے اپنی کتاب میں برطانوی شاہی خاندان پر تنقید کی اور ساتھ ہی افغانستان میں 25 طالبان کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کیا اور کہا کہ اس نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے افغانستان میں طالبان کے افراد کو اس طرح قتل کیا جیسے شطرنج میں مخالف کے مہروں کو مارا جاتا ہے۔اب ہیری جیسا دکھائی دینے والے 39 سالہ ریسے ویٹک نے برطانوی اخبار ’’ ڈیلی میل‘‘ کو بتایا ہے کہ ہیری کی کتاب کے آنے کے بعد میں بے چینی محسوس کرنے لگا ہوں۔ انہوں نے کہا مجھے خوف نے گھیر لیا ہے کہ کہیں ہیری سمجھ کر طالبان مجھ پر حملہ نہ کر دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ پرنس ہیری کے غلط ہونے کے خوف سے عوام کے سامنے اپنا بھیس بدلنے لگے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ مجھے ہر روز ہیری کے لیے غلط سمجھتے ہیں۔ اسی لئے اب مجھے ایسا لگنے لگا ہے جیسے اچانک سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔اپنی یادداشتوں کے ایک باب میں شہزادہ ہیری نے افغانستان میں اپنی تعیناتی کے دو ادوار کے متعلق بات کی ہے۔ ان کا افغانستان میں تعیناتی کا پہلا دور 2007 اور 2008 میں ایڈوائس ایئر کنٹرول آفیسر کے طور پر تھا۔ دوسری مرتبہ وہ 2012 میں افغانستان گئے تھے اور شریک پائلٹ بنے تھے۔اس دور کے متعلق انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپاچی ہیلی کاپٹر پر رہ کر طالبان پر فائرنگ کا حکم دیا تھا اور طالبان کے 25 ارکان کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی اعدادوشمار نہیں تھا جس پر مجھے فخر ہو تاہم اس نے مجھے شرمندہ بھی نہیں کیا۔اس نے یہ بھی کہا کہ جب میں نے اپنے آپ کو جنگ کے شعلوں اور الجھنوں کے درمیان پایا تو میں نے ان 25 افراد کو انسان نہیں سمجھا۔ وہ شطرنج کے مہرے تھے جو بورڈ سے ہٹا دیے گئے تھے۔ برے لوگوں کو ختم کر دیا گیا اس سے پہلے کہ وہ اچھے لوگوں کو مار سکیں۔طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے بھائی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ٹویٹس کے ذریعے ان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے جن کو آپ نے مارا وہ شطرنج کے مہرے نہیں تھے وہ انسان تھے، ان کے خاندان ان کی واپسی کے منتظر تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سچ وہی ہے جو میں نے کہا۔ ہمارے معصوم لوگ آپ کے فوجیوں اور آپ کے فوجی اور سیاسی رہنماؤں کے لیے شطرنج کے مہرے تھے۔ اس کے باوجود وہ سیاہ اور سفید سکوائر گیم میں شکست کھا گئے۔ .

متعلقہ خبریں