جدہ(نیوزڈیسک)سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں گزشتہ ماہ افراط زر کی شرح 3.3 فی صد رہی ہے۔نومبر میں یہ شرح 2.9 فی صد تھی۔مکانات، پانی، بجلی، گیس اور دیگرایندھن کی قیمتوں میں 5.9 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، تمام اشیاء صارفین کی کل ماہانہ خریداری کا 25.5 فی صدہیں۔
افراط زرکی شرح میں یہ اضافہ گھروں کے اصل کرایوں میں 1.1 فی صد اضافے کے نتیجے میں ہوا ۔اشیائے خورونوش کی قیمتیں، جو 2022ءکے زیادہ تر عرصے کے دوران میں افراط زر کا بنیادی محرک تھیں، ماہانہ بنیاد پر0.1 فی صد گر گئیں،
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022ء کے سالانہ کنزیومر پرائس انڈیکس میں 2021 کے مقابلے میں 2.5 فی صد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 3.7 فی صد اور ٹرانسپورٹ کی قیمتوں (کرایوں) میں 4.1 فی صد اضافہ ہے۔ 2022 میں مکانات کے زمرے میں 1.8 فی صد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ ہاؤسنگ کے اصل کرایوں میں 2.0 فی صد اضافہ ہے۔
واضح رہے کہ سعودی وزارت خزانہ نے مالی سال 2023 کے بجٹ بیان میں کہا تھا کہ اسے 2022 کے آخر تک اوسط افراط زر کی شرح 2.6 فی صد رہنے کی توقع ہے۔















