اہم خبریں

بھارت میں سکھ فوج کیلئے ہیلمٹ خریدنے پر تنازعہ شدت اختیار کرگیا

بھارت (نیوز ڈیسک)بھارت میں فوج کے سکھ اہل کاروں کے لیے ہیلمٹ متعارف کرانے کے فیصلے پر سکھوں کی مذہبی تنظیموں کا شدید ردعمل سامنے آگیا، سکھ مذہبی تنظیموں نے ایسے کسی اقدام کو اپنی مذہبی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے ۔بھارتی فوج کے ہیلمٹ خریدنے کے فیصلے سے متعلق خبر منظر عام پر آنے کے بعدایک بار پھر ’پگڑی بمقابلہ ہیلمٹ‘ کی 100 سال پرانی بحث کا آغاز ہوگیا ۔سکھوں کی مرکزی نمائندہ مذہبی تنظیم اکال تخت اور شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی(ایس جی پی سی) نے اپنے بیان میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوج میں شامل سکھوں کے لیے ہیلمٹ کی خریداری کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کےمطابق بھارتی فوج نے پانچ جنوری کو ہنگامی بنیادوں پر سکھ اہل کاروں کے لیے تقریباً 13 ہزار ہیلمٹ خریدنے کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق ہیلمٹ کی مجوزہ خریداری کے بعد سکھ اہل کار ’بلٹ پروف‘ پٹکا باندھنے کے بجائے یہ ہیلمٹ پہنیں گے جو بڑے اور ایکسٹرا لارج سائز کے ہوں گے۔بھارت کی وزارتِ دفاع کی ویب سائٹ پر دستیاب ’ریکویسٹ فور پرپوزل‘ کے مطابق یہ ہیلمٹ سکھ فوجیوں کے سر پر بالوں اور پگڑی کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑے سائز میں ہونے چاہئیں۔واضح رہے کہ سکھ مذہب کے ماننے والے سر پر پگڑی باندھتے ہیں۔ بھارت کے علاوہ دیگر ممالک کی فوج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شامل اپنی اس مذہبی علامت اختیار کرنے والے سکھ یونیفارم کے ساتھ بھی سر پر پگڑی ہی باندھتے ہیں۔’ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر ہرجندر سنگھ دھمی نے اس معاملے پر بھارت کے وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ کو ایک خط بھی لکھا ہے۔

انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ بھارتی میڈیا کے توسط سے یہ بات ان کے علم میں آئی ہے کہ سکھ فوجیوں کے لیے ہیلمٹ متعارف کرائے جارہے ہیں۔ہرجندر سنگھ کا اس خط میں کہنا تھا کہ اگر یہ فیصلہ کیا گیا تو یہ سکھوں کی مذہبی تعلیمات کے خلاف ہوگا۔انہوں ںے وزیرِ دفاع سے یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ہیلمٹ کی خریداری کے لیےوزارتِ دفاع کی دی گئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج میں شامل سکھ روایتی طور پر پہلی عالمی جنگ ہی سے سر پر پٹکا یا پگڑی باندھتے آئے ہیں تاہم بدلتے جنگی ہتھیاروں کی وجہ سے فوجیوں کے تحفظ کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔بھارتی فوج کی جانب سے سکھوں کے لیے خصوصی ہیلمٹ کی خریداری کا یہ فیصلہ برطانوی راج کے ختم ہونے کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہوگا۔ایک اور مذہبی رہنما اور اکال تخت جتھے دار گیانی ہرپریت سنگھ کا اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ دوسری عالمی جنگ میں برطانوی حکومت نے ایسی ہی ایک کوشش کی تھی لیکن اس وقت بھی سکھوں نے اسے مسترد کردیا تھا۔انہوں نے کہا کہ سکھوں کے لیے پگڑی صرف کپڑا نہیں بلکہ یہ وہ تاج ہے جو گرو صاحب نے ان کے سروں پر رکھا تھا۔بھارتی ’اخبار انڈین ایکسپریس‘ کے لیے صحافی کمل دیپ سنگھ برار نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ سو سال بعد ایک بار پھر پگڑی بمقابلہ ہیلمٹ کی بحث کا آغاز ہوگیا ۔

انہوں نے لکھا کہ سکھ تنظیمیں اس فیصلے کو اس لیے تسلیم نہیں کریں گی کیوں کہ ٹوپی یا ہیلمٹ پہننا ان کی مذہبی تعلیمات کے منافی ہے۔کمل دیپ کے مطابق سکھوں کے لیے یہ نئی بحث نہیں ہے۔ پہلی عالمی جنگ میں برٹش انڈین آرمی کے سکھ فوجیوں کو ہیلمٹ پہنانے کے لیے مذہبی پیشواؤں کے ذریعے بھی اپیلیں کی گئی تھیں لیکن اس کے باوجود سکھ اہل کاروں نے یہ حکم ماننے سے انکار کردیا تھا۔دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی برطانیہ نے ہندوستانی فوج میں شامل سکھوں کو ہیلمٹ پہننے پر آمادہ کرنے کے لیے شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کی قیادت کا سہارا لیا تھا لیکن اس بار بھی سکھ فوجی بغیر ہیلمٹ ہی کے میدان میں اترے تھے۔

متعلقہ خبریں