لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ میں نے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا، جیلوں میں ڈالا گیا، ملک بدر کیا گیا، میرے، شہباز شریف اور مریم کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے، پوری لیگی قیادت کے خلاف مقدمات بنے۔ہم تو پاکستان کی تعمیر کرنے والے ہیں، ہم نے تو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا،پاکستان کو ایٹمی طاقت سے محروم نہیں کیا، 2013 میں لوڈشیڈنگ عروج پر تھی ہم نے ملک سے لوڈشیڈنگ ختم کی۔آج میں چھ سال بعد جلسے سے خطاب کر رہا ہوں، دو سال کو ملک میں مقدمے ہی بھگت رہاتھا، پھر چار سال باہر رہا۔زخم اتنے لگے ہیں کہ بھرتے بھرتے وقت لگے گا، لیکن میرے دل میں انتقام کی کوئی تمنا نہیں ہے، میری تمنا ہے کہ قوم خوشحال ہوجائے، میری قوم کو روزگار ملے، روشنیوں کےچراغ جلیں۔ میں اس قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔مریم کو اپنے قیدی باپ کے سامنے گرفتار کیا گیا، میں کوٹ لکھپت میں قید تھا، مریم کو میرے سامنے گرفتار کرلیا گیا، مریم کی بیٹی چھوٹی تھی، اس نے اپنی ماں کی گرفتاری کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ضبط سے کام لیا، جلسے میں کوئی ایسی بات نہیں کی جو مجھے نہیں کرنا چاہیے،ہفتہ کو وطن واپسی پر مینار پاکستان جلسہ گاہ میں نوازشریف نے شعر پڑھ کر خطاب کا آغاز کیا، انہوں نے شعر پڑھا ”کہاں سے چھیڑوں فسانہ کہاں تمام کروں، وہ میری طرف دیکھیں تو میں سلام کروں“۔ نواز شریف نے کہا کہ آج پانچ سالوں کے بعد آپ سے ملاقات ہورہی ہے، لیکن آپ سے میرا پیار کا رشتہ قائم و دائم ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہاکہ میرا اورآپ کارشتہ دہائیوں سے چل رہاہے آپ نےنہ کبھی مجھے دھوکادیانہ میں نے آپ کوکبھی دھوکادیا،جب بھی موقع ملاخلوص سے عوام کی خدمت کی،جب بھی موقع ملا دن رات ایک کرکے عوام کی خدمت کی ،انہوں نے کہاکہ آج آپ لوگوں کی اتنی محبت دیکھ کرمیں اپنے دکھ دردبھول گیاہوں ،کچھ دکھ درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان کچھ دیر کے لیے فراموش کرسکتا ہے لیکن کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں وہ کبھی نہیں بھرتے،انسان کی زندگی سے مال چلاجاتاہے لیکن پھرآجاتاہے لیکن جوآپ کے پیارے چلے جاتے ہیں وہ دوبارہ نہیں ملتے ،میں جب باہرسے آتاتھاتومیری والدہ اورمیری اہلیہ دروازے پرمیرا استقبال کرتی تھیں وہ میری سیاست کی نذر ہوگئیں یہ ایسازخم ہے جوکبھی نہیں بھرے گا،میری والدہ ،والد اوراہلیہ فوت ہوگئیں میں ان کوقبرمیں نہ اتارسکا.میں نے جیلر سے کہا کہ میری مریم نواز سے بات کروادو،جیلرنے جواب دیا کہ ہمیں اجازت نہیں ہے،اس شخص نے میری بات نہیں کرائی اورڈھائی گھنٹے بعدآکربتایاآپ کی بیوی انتقال کرگئی ہے،انہوں نے کہاکہ ہمارا سیل جیل میں قریب تھا لیکن ایک ایک ہفتے تک ہماری ملاقات نہیں ہوتی تھی،مریم نوازکوجب اپنی والدہ کے انتقال کاپتاچلاتووہ بے ہوش ہوگئی،انہوں نے کہاکہ میں آج چیئرمین پی ٹی آئی کانام نہیں لیناچاہتا،میں وہ فرق ملحوظ خاطررکھناچاہتاہوں جومیری تربیت ہے،نواز شریف نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کبھی گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، آپ ملت کے مقدر کا ستارہ ہیں، راستہ کٹھن ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے، ہم مل کر پاکستان کی دوبارہ تعمیر نو کریں گے۔ بجلی کےنرخ اور ڈالر کی قدر کم کریں گے، بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے، موٹرویز بنائیں گے، پاکستان کو آئی ٹی پاور بنائیں گے، درآمدات بڑھائیں گے۔انہوں نے تنقیدی انداز میں کہا کہ تسبیح میرے پاس بھی ہے لیکن میں سب کے سامنے نہیں پھیرتا، بغل میں چھری منہ میں رام رام مجھے نہیں آتا۔ میں تسبیح اس وقت پڑھتا ہوں جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔نواز شریف نے کہا کہ ندامت کا ایک آنسو زندگی کے سارے گناہ دھو دیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم ملک کوایشین ٹائیگربنانے جارہے تھے،ملک کوجی20ممالک کی فہرست میں لےجاناچاہتےتھے،نوازشریف نے کہاکہ بدقسمتی سے ملک کی ترقی کاسفرروک دیاگیا،ہمارے پڑوسی ممالک ہم سے بہت آگے نکل چکے،انہوں نے کہاکہ ہم دھرنے کے باوجودموٹرویزبناتے گئے،گلگت سے اسکردوموٹروے بھی ہم نے بنائی،ہم نے لواری ٹنل اورگوادرسے کوئٹہ موٹروے بنائی،ہم نے اسلام آبادسے لاہورموٹروے بنائی،لاہورسے ملتان موٹروے ہم نےبنائی،انہوں نے کہاکہ مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں جوواجب بھی نہ تھے،انہوں نے کہاکہ نوازشریف کے دل میں ایک خواہش ہے قوم کے چہروں پرخوشی آجائے،انہوں نے کہاکہ میں نے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا، جیلوں میں ڈالا گیا، ملک بدر کیا گیا، میرے، شہباز شریف اور مریم کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے، پوری لیگی قیادت کے خلاف مقدمات بنے۔لیگی قائد نے کہا کہ ہم تو پاکستان کی تعمیر کرنے والے ہیں، ہم نے تو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا،پاکستان کو ایٹمی طاقت سے محروم نہیں کیا، 2013 میں لوڈشیڈنگ عروج پر تھی ہم نے ملک سے لوڈشیڈنگ ختم کی۔نواز شریف نے کہا کہ میں نے تو بجلی مہنگی نہیں کی، میں نے بجلی بنائی اور سستے داموں اسے عوام تک پہنچایا۔انہوں نے کہاکہ ہمارے دورمیں پٹرول60روپے کاملتاتھااورآج کتنے کاہے؟مارے دورمیں104روپے کاڈالرتھااور250روپے سے اوپرہے،ہمارے دورمیں روپیہ مضبوط کیساتھ ڈالرکے سامنے کھڑاتھا،آج ڈالرہمیں ہلنے نہیں دیتا،اسی وجہ سے ملک میں مہنگائی کاطوفان ہے،نوازشریف کواس لیے اقتدارسے ہٹایاگیا کہ وہ غریبوں کی بات کرتاتھا،قائد ن لیگ نے کہا کہ اُنہوں نے اپنے دور اقتدار میں کیا کیا؟ شہباز شریف نے لاہور میں اورنج لائن بنائی، کراچی میں گرین لائن بنائی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری اخلاقیات اور ان کی اخلاقیات میں بہت فرق ہے، ہم وہ نہیں جو پگڑیاں اچھالیں، ہماری مائیں بہنیں کتنے آرام سے جلسی سن رہی ہیں، یہاں ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے نہیں ہو رہے، ناچ گانا نہیں ہو رہا، آپ سمجھ رہے ہیں نا میں کیا کہہ رہا ہوں؟
نواز شریف نے سوال اٹھایا کہ کون ہے جو ہر چند سال بعد نواز شریف کو قوم سے جدا کر دیتا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت کا تسلسل جاری رہتا تو آج ملک میں ایک بھی غریب نہیں ہوتا۔ آج حالات بہت مشکل ہوگئے ہیں، لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا کہ بجلی کا بل دیا جائے یا بچوں کا پیٹ پالا جائے۔قائد ن لیگ نے کہا کہ لوگ آج خودکشی پر مجبور ہیں، لیکن مہنگائی کا یہ سلسلہ شہباز شریف دور کا نہیں اس سے پہلے ہی شروع ہوگیا تھا۔نواز شریف نے کہا کہ 23 سالہ سیاسی دور میں میں 15 سال جیل یا جلا وطن رہا، یہ 15سال مجھے مل جاتے تو ملک کو جنت بنا دیتا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، آئین کی روح کے تحت مستقبل کا پلان بنائیں، تمام ریاستی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا، آئین پر عملدرآمد کیلئے سب کو اکٹھے مل کر کم کرنا ہوگا تاکہ اس حادثے کو روکا جائے جس کا ملک بار بار شکار ہوجاتا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ کس طرح کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے، ہمیں ڈبل اسپیڈ سے دوڑنا ہوگا، ہاتھ میں پکڑا کشکول ہمیشہ کیلئے توڑنا ہوگا، ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا، ہمیں اپنی قومی غیرت و وقار کو بلند کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پروقار فارن پالیسی بنانا ہوگی، ہمیں ہمسایوں سے تعلقات کو استوار کرنا ہوگا،ہم ہمسایوں سےلڑائی کرکے ترقی نہیں کرسکتے۔نواز شریف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے باوقار طریقے سے آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ مشرقی پاکستان الگ نہ ہوتا تو ہم مل کر ترقی کرتے، مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان ایک اکنامک کاریڈور ہوتا، لوگ کہتے تھے مشرقی پاکستان ہم پر بوجھ ہے، آج وہی مشرقی پاکستان سے آگے نکل گیا اور ہم پیچھے رہ گئے۔ ہمیں ڈبل اسپیڈ کے ساتھ دوڑنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے بہت ضبط سے کام لیا ہے، جلسے میں کوئی ایسی بات نہیں کی جو مجھے نہیں کرنی چاہیے، میرے دل میں رتی برابر بھی انتقام کی آگ نہیں ہے۔انہوں نے فلسطین کیلئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ ہم فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ انصاف سے کام لے، فلسطینیوں کو ان کا حق دیا جائے، فلسطین کےعوام کو چین سے زندگی گزارنے کا حق ہونا چاہئے۔اس سے قبل نواز شریف جلسہ گاہ میں بنے اسٹیج پر پہنچے تو مریم نواز نے والد کے گلے لگ کر استقبال کیا اور دونوں آبدیدہ ہوگئے۔نوازشریف نے دیگرلیگی رہنماؤں کو بھی گلے لگایا۔ اسٹیج پر شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور اسحاق ڈار سمیت دیگر لیگی قیادت بھی موجود ہیں۔نوازشریف نے ہاتھ اٹھا کر کارکنان کے نعروں کا جواب دیا اور جلسہ گاہ میں آتش بازی کی گئی۔پورا مینارِ پاکستان پارٹی ترانوں اور نعروں سے گونجتا رہا۔















