اسلام آباد (اے بی این نیوز) ترک خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران نے 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کرلیا ہے، تاہم تہران میں ایرانی حکومت کے ذرائع نے جنگ بندی میں توسیع سے متعلق کسی بھی بات چیت کی تردید کردی ہے۔
ترک خبر ایجنسی نے پاکستانی حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اور ایران دونوں نے جنگ بندی میں توسیع کے لیے اپنی رضامندی ثالثوں کو آگاہ کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک جنگ بندی کی مدت طے کرنے کے لیے ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی کر رہے ہیں۔ موجودہ جنگ بندی کی مدت 17 اگست کو ختم ہونے والی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے سینئر نمائندوں نے پاکستان کی ثالثی میں 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت جنگ بندی قائم رکھنے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات مکمل کرنے کی 60 روزہ مدت مقرر کی گئی تھی۔
مفاہمتی یادداشت میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھلا رکھنے سے متعلق امور بھی شامل تھے۔ تاہم اہم شقوں میں مبہم زبان کے باعث دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
ایران نے جنگ بندی میں توسیع کی تردید کردی
دوسری جانب تہران میں ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی حکومتی ذرائع نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر بات چیت کی تردید کی ہے۔
ایرانی حکومت کے ذرائع نے سرکاری نیوز ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ جنگ بندی میں توسیع پر کوئی مذاکرات نہیں ہورہے۔
ایرانی ذرائع کا مؤقف ہے کہ ایران کے نقطہ نظر سے جنگ بندی کے آغاز کی کوئی تاریخ ہی موجود نہیں، اس لیے جنگ بندی میں توسیع کے لیے بھی کوئی چیز موجود نہیں۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے عبوری معاہدہ طے پانے کے 48 گھنٹے بعد ہی اس کی خلاف ورزی کی اور چند روز بعد جنگ بندی کے ایم او یو سے دستبردار ہوگیا تھا۔
تاہم ایرانی ذرائع نے دونوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری جاری رہنے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق زیر بحث امور میں امریکا کا مفاہمتی یادداشت پر واپس آنا اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے وقت کا تعین بھی شامل ہے۔
یوں امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع سے متعلق متضاد دعوے سامنے آگئے ہیں، ایک جانب ترک خبر ایجنسی پاکستانی حکومتی ذرائع کے حوالے سے توسیع پر رضامندی کی خبر دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب ایرانی حکومتی ذرائع نے ایسی کسی پیش رفت کی تردید کردی ہے۔
مزید پڑھیں:آزاد کشمیر الیکشن، ایل اے 17 حویلی سے پیپلزپارٹی کے فیصل راٹھور کامیاب















