اسلام آباد (اے بی این نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کے بعد پاکستان میں بھی آئندہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 2.77 ڈالر یا 3.14 فیصد اضافے کے بعد 90.87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 11 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 15.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اپریل کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہے۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 2.35 ڈالر یا 2.85 فیصد اضافے کے ساتھ 84.84 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ ہفتے اس کی قیمت میں 15.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادھر امریکا میں بھی پیٹرول کی اوسط ریٹیل قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے آغاز کے بعد وہاں پیٹرول کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر رہیں یا مزید بڑھیں تو پاکستان میں آئندہ پندرہ روزہ جائزے کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ عالمی تیل کی اوسط قیمت، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور حکومتی ٹیکس پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
دوسری جانب اگر عالمی منڈی میں کشیدگی میں کمی آتی ہے اور خام تیل کی قیمتیں نیچے آتی ہیں تو پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ محدود رہ سکتا ہے یا قیمتیں برقرار بھی رکھی جا سکتی ہیں۔ فی الحال عالمی رجحان اضافے کی جانب ہے، جس کے باعث قیمتیں بڑھنے کے امکانات زیادہ سمجھے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: سی سی پی کا جعلی ٹریڈ مارک استعمال کرنے پر ایم سی آئی بیورو کو 50 لاکھ روپے جرمانہ















