اہم خبریں

ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایران کا امریکا کو بڑا چیلنج سامنے آگیا

ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایران کا امریکا کو بڑا چیلنج سامنے آگیا

تہران (اے بی این نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے تیل برآمد کرنے والے اہم مرکز خرگ جزیرہ پر حملے کی دھمکی کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آؤ ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں، ہم جزیرہ خرگ کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دیں گے۔

ایران نے بھی امریکہ کے حالیہ حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ جبکہ تہران نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی کشیدگی سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جارحانہ بیان بازی سے ایرانی قوم کے وقار، عزم اور استقامت کو کبھی کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے ردعمل میں کی گئی۔

اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز صرف ایران کے انتظامات کے تحت کھلا رہے گا اور اسے کبھی بھی امریکا کی دھمکیوں یا دباؤ کی صورت میں نہیں کھولا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کی قومی سلامتی اور اس کے اسٹریٹجک مفادات کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس لیے اس آبی گزرگاہ سے متعلق ہر فیصلہ ایران کے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ ایران کسی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے سامنے نہیں جھکے گا اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے فیصلے صرف ایران کے انتظامات اور پالیسی کے مطابق ہوں گے۔

باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی دھمکیوں کے باوجود ایران اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا تاہم قومی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں‌:وزارت اطلاعات میں اہم تعیناتی،رئیسہ عادل نئی پرنسپل انفارمیشن آفیسر مقرر

متعلقہ خبریں