اسلام آباد (اے بی این نیوز) آزاد کشمیر بحران پر اپوزیشن رہنماؤں کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں راولاکوٹ جانے سے روک دیا گیا جس کے بعد رہنماؤں نے اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کی۔
اسلام آباد پولیس نے آزاد کشمیر میں جاری بحران اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاجی مطالبات کا جائزہ لینے راولاکوٹ جانے والے قومی قیادت کے وفد کو قیدیوں کی وین لا کر سہالہ میں روک دیا۔ اس صورتحال کے پیدا ہونے کے بعد سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، مصطفی نواز کھوکھر، سلمان اکرم راجہ اور علامہ راجہ ناصر عباس نے اسلام آباد میں مشترکہ اور انتہائی اہم پریس کانفرنس کی۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے دو ہفتے قبل کشمیری وفود کی آمد اور اداروں سے رابطوں کے بعد حقیقت جاننے کے لیے کشمیر جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہمارا مقصد فریقین میں مفاہمت اور مظلوموں کا ساتھ دینا تھا۔ کشمیر جیسے حساس علاقے میں احتجاج کے دوران 18 شہری مارے گئے۔ حکمرانوں کو ہوش میں آنا چاہیے، کیا وہ ایک اور جلیانوالہ باغ بنانا چاہتے ہیں؟
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ یاد رہے سو سال بعد ملکہ الزبتھ کو بھی اس ظلم پر معافی مانگنی پڑی۔ اگر حکومت نے یہ آمرانہ رویہ جاری رکھا تو ہم پورے پاکستان میں دھرنوں کا اعلان کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ہم سچ بولتے رہیں گے، ہم جیلوں اور کوٹ لکھپت میں 280 سال کی سزاؤں سے نہیں ڈرتے۔ اگر یہی مرضی ہے تو اسمبلیوں کو تالے لگا دیں۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر طاقت سے نہیں مذاکرات سے حل ہوگا۔ پونچھ کی تاریخ ہزاروں قربانیوں سے بھری پڑی ہے، وہاں کے لوگوں کو طاقت سے دبایا نہیں جا سکتا۔
شاہد خاقان عباسی کے مطابق آزاد کشمیر میں گزشتہ 4 ہفتوں سے دکانیں بند ہیں، کھانے پینے کی اشیاء کی ترسیل بند ہے۔ کشمیر میں خونریزی کا فائدہ پاکستان کے دشمن کے سوا کسی کو نہیں ہوگا۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان نے جس معاہدے پر دستخط کیے ہیں اس پر عملدرآمد کیا جائے اور کشمیریوں کی بات سنی جائے۔ حکمرانوں کے دل میں کشمیر کا درد ہوتا تو وہ خود وہاں جاتے۔
کشمیری رہنما نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں آزاد کشمیر میں بار بار حکومتیں گرائی گئیں اور چار وزرائے اعظم تبدیل کیے گئے جس سے شدید سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ کشمیر کا اصل مسئلہ صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے، جو بھی ان حقوق کی بات کرتا ہے، عوام اس کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔ نبیلہ ارشاد نے کہا کہ وفاقی اپوزیشن رہنماؤں کا راستہ روک کر دنیا کو غلط پیغام دیا گیا۔ اگر یہ لیڈر وہاں جاتے تو امن کا پیغام جاتا۔ یاد رہے کہ ہم نے 19 جولائی 1947 کو اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا، یہ رویہ ہمیں قابل قبول نہیں۔
سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ قومی اسمبلی و سینیٹ کے اپوزیشن رہنما اور سابق وزیراعظم کشمیریوں کی شکایات سننے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر جا رہے تھے لیکن پولیس نے اعلیٰ حکام کے احکامات کا حوالہ دے کر راستہ روک دیا۔ سہالہ کے مقام پر سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی سے میلوں دور گاڑیاں پھنس گئیں اور وفد کو سڑک پر دھرنا دینا پڑا۔
مصطفیٰ کھوکھر کے مطابق اپوزیشن کو روکنے کی تصاویر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے شدید شرمندگی کا باعث بنیں گی اور ملک دشمن پروپیگنڈا کرنے والوں کو تقویت ملے گی۔ حکومت کا رویہ ستر سالہ کشمیر کاز اور پاکستان کے بیانیے کے بالکل برعکس ہے۔
مزید پڑھیں:ملک بھر میں بینکوں کی تعطیل،عوام کیلئے اہم اطلاع















