لاہور (اے بی این نیوز) لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی کو مغل پورہ میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے کیس کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج منظر علی گل نے 68 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود رشید اور دیگر ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے حکومت کی جانب سے سزا یافتہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم بھی دیا اور عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری، میاں محمود رشید اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو 55 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے شاہ محمود قریشی کو مقدمے سے بری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ان پر الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ واقعہ کے وقت شاہ محمود قریشی لاہور میں موجود نہیں تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ شاہ محمود قریشی اپنی اہلیہ کے علاج کے لیے 9 مئی کو کراچی میں موجود تھے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کراچی کے سفری ٹکٹ اور میڈیا انٹرویوز سمیت دیگر شواہد پیش کیے جس سے ان کی لاہور میں عدم موجودگی ثابت ہوئی۔
تھانہ مغل پورہ کی جانب سے مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا، جس پر عدالت نے سماعت مکمل ہونے کے بعد تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
مزید پڑھیں:امریکا معاہدہ، ایران کیلئے بڑی خوشخبری کا اعلان سامنے آگیا















