اہم خبریں

بینک آف خیبر کے گروپ ہیڈ ایچ آر ڈی محمد آصف ہراسگی شکایت پر معطل، انکوائری رپورٹ سامنے آگئی

پشاور(اے بی این نیوز) بینک آف خیبر کے گروپ ہیڈ ہیومن ریسورسز ڈویژن (ایچ آر ڈی) محمد آصف کے خلاف ہراسگی سے متعلق انکوائری کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ موصولہ دستاویزات کے مطابق بینک کی ہراسمنٹ کمیٹی نے ایک خاتون ملازمہ کی شکایت پر باقاعدہ انکوائری شروع کرتے ہوئے محمد آصف کے خلاف چارج شیٹ جاری کر دی ہے۔

دستاویزات کے مطابق محمد آصف پر ذہنی، زبانی، جسمانی اور سائبر ہراسگی سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے شکایت کنندہ اور اس کے اہل خانہ کو دھمکیاں دیں، بلیک میل کرنے اور مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ ان پر اپنے عہدے اور اختیارات کے ناجائز استعمال، شکایت کنندہ کی کارکردگی رپورٹ پر اثرانداز ہونے اور پیشہ ورانہ معاملات میں اثرورسوخ استعمال کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ محمد آصف نے شکایت کنندہ کو ہاسٹل سے زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی اور ہاسٹل کے باہر طویل وقت تک موجود رہے۔ مزید برآں جعلی نکاح کے ذریعے استحصال، بعد ازاں اس سے انکار، ذاتی ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی، نکاح کو خفیہ رکھنے، حقائق چھپانے، بینک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات بھی چارج شیٹ کا حصہ ہیں۔

ہراسمنٹ کمیٹی نے محمد آصف کو تحریری جواب جمع کرانے اور ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے، جبکہ جواب جمع نہ کرانے کی صورت میں یکطرفہ کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

دوسری جانب بینک آف خیبر نے ہراسانی کی شکایت کی بنیاد پر محمد آصف کو 30 روز کے لیے معطل کر دیا ہے۔ جاری حکم نامے کے مطابق معطلی کے دوران انہیں ایم ڈی سیکرٹریٹ میں حاضری یقینی بنانے، سرکاری لیپ ٹاپ سمیت تمام دفتری اثاثے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بینک انتظامیہ کے مطابق ضرورت پڑنے پر معطلی کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

بینک آف خیبر کا کہنا ہے کہ معاملہ تاحال ہراسمنٹ کمیٹی کے زیرِ انکوائری ہے اور حتمی فیصلہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: بیوٹی پارلرز، اسکن کیئر کلینکس اور جم آلات پر ٹیکس میں بڑی کمی کا امکان

متعلقہ خبریں