اہم خبریں

دوسرے مرحلے کے وقت اور مقام پر تاحال کوئی باضابطہ تصدیق نہیں، ترجمان دفتر خارجہ

‎اسلام آباد (رضوان عباسی )ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں پاکستان کے علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی تعمیری اور مثبت سفارتی کوششوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے ثالثی کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کے درمیان رابطوں کے چینلز کھلے رکھے، جس کے نتیجے میں اسلام آباد میں اہم اور تعمیری امن مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوا۔
ترجمان کے مطابق اسلام آباد مذاکرات میں امریکی نمائندگی جے ڈی وینس جبکہ ایرانی نمائندگی باقر قالیباف نے کی۔ مذاکرات کے انعقاد میں وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے کلیدی کردار ادا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اس وقت ایران کے دورے پر ہیں جہاں علاقائی سلامتی اور تعاون کے امور پر بات چیت جاری ہے۔

ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امیرِ قطر، جرمن چانسلر، اطالوی وزیراعظم، برطانوی وزیراعظم، جاپانی وزیراعظم اور کینیڈین وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں علاقائی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اسلام آباد مذاکرات سے قبل بھی پاکستانی قیادت متعدد عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں رہی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے فعال اور مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔

اقصیٰ مسجد سے متعلق حالیہ واقعات اور خطے میں جارحیت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں جن کی پاکستان نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی انسداد دہشتگردی ڈھانچے (ریٹس) کی چیئرمین شپ کے فرائض انجام دے رہا ہے۔ ریٹس کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خطے میں امن و استحکام اور افغانستان سے متعلق سیکیورٹی امور زیر بحث آئے۔ پاکستان ستمبر میں آئندہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

اسلام آباد میں ہونے والے چار ممالک کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے سینئر حکام شریک ہوئے، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان نے بھارتی فوج کے متنازع افسر کرنل پروہت کی ترقی کی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھوتہ ایکسپریس دہشتگردی کیس میں ملوث رہا ہے، اور اس اقدام سے بھارت میں ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کیس میں ملوث تمام عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کو منظم امتیاز، سماجی و معاشی پسماندگی اور ہجوم کے تشدد کا سامنا ہے۔ گائے کے تحفظ کے نام پر اقلیتوں کے خلاف جرائم میں اضافہ تشویشناک ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال اور انتہاپسند گروہوں کے بڑھتے ہوئے تشدد کا فوری نوٹس لیا جائے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارتی غیر قانونی ڈلیمٹیشن عمل کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، جو آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کو اس ایکٹ میں شامل کرنا غیر قانونی اور بے بنیاد اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ استصوابِ رائے کشمیری عوام کا ناقابل تنسیخ حق ہے اور عالمی برادری کو اس کے تحفظ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

ترجمان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان کا برادر، قریبی اور دیرینہ دوست ملک ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر انتہائی مضبوط ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کسی اختلاف یا فاصلے کی قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں، اور باہمی اعتماد و تعاون بدستور مضبوط ہے۔

ترجمان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ مالی معاملات حالیہ تنازع سے پہلے کے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ فعال ہے۔ پاکستان ایران اور سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے اور مشاورت میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کوسٹ گارڈز پر حملے کی شدید مذمت کی جاتی ہے اور واقعے کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔

ترجمان کے مطابق پاکستان خطے میں جامع اور پائیدار امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، اور مختلف ممالک کے ساتھ رابطے اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات انتہائی تعمیری اور مثبت ماحول میں ہوئے۔ پاکستان ان مذاکرات کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 21 گھنٹے کا دورانیہ صرف فریقین کے براہِ راست مکالمے اور مذاکرات پر مشتمل تھا، جس کے دوران وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز مسلسل موجود رہے۔

ترجمان کے مطابق امریکہ کے نائب صدر نے بھی اپنے بیان میں اس دورانیے کا ذکر کیا، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی تصدیق کی کہ چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر مذاکراتی عمل میں شریک رہے۔

اروچی میں ہونے والے افغانستان سے متعلق مذاکرات اختتام پذیر ہوئے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکہ مذاکرات سے متعلق معلومات پاکستان کے پاس امانت تھیں، اسی لیے میڈیا کو اس پر تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکیں۔
مزید پڑھیں: حقوق تسلیم نہ ہوئے تو آبنائے ہرمز بند،ایران نے دنیا کو خبردار کردیا

متعلقہ خبریں