اہم خبریں

درخواست بروقت مقرر ہوجاتی تو الیکشن کیس کا فیصلہ ہوچکا ہوتا، سپریم کورٹ

اسلام آباد(نیوزڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے غلط حقائق بتانے پر سپریم کورٹ بار کے صدر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو غلط بیانی نہیں کرنی چاہیے۔سپریم کورٹ میں 90 دنوں میں عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کر رہا ہے، بنچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔پی ٹی آئی کی طرف سے وکیل بیرسٹرعلی ظفر ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی آئی کی درخواست پر تو رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف اپیل ہے، یہ اپیل تو چیمبرمیں لگتی ہے، کھلی عدالت میں کیسے لگی؟ عابد زبیری صاحب آپ اپنی درخواست میں کیا مانگ رہے ہیں، آپ نے درخواست کب دائر کی اپنی استدعا پر آئیں۔وکیل عابد زبیری نے عدالت کے سامنے اپنی درخواست پڑھی۔پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ رجسٹرار نے آئینی درخواست پر اعتراض عائد کیا تھا، ایک درخواست گزار نے کہا کہ میری اپیلیں کیوں مقرر نہیں ہوئیں اس کا علم نہیں، عباد الرحمن لودھی نے بھی عدالت کو بتایا کہ میری درخواست پربھی اعتراضات لگے ہیں، چیمبر میں سماعت نہیں ہوئی۔صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے 5 اگست کو مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ چیلنج کیا۔چیف جسٹس نے عابد زبیری سے استفسار کیا کہ درخواست کب دائر کی اور ابتک سماعت کیلئے مقرر کیوں نہیں ہوئی؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ اگست میں درخواست دائر کی مگر کیس سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں عدالتی سٹاف نے نوٹ دیا کہ آپ نے جلد سماعت کی کوئی درخواست نہیں دی، یہ تو فوری نوعیت کا معاملہ تھا۔وکیل عابد زبیری نے کہا کہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کو جلد سماعت کی درخواست دی تھی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بروقت درخواست مقرر ہوتی تو ابھی تک فیصلہ ہوچکا ہوتا۔عابد زبیری نے کہا کہ درخواست میں استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کو 90 روز میں انتخابات یقینی بنانے کا حکم دیا جائے، مشترکہ مفادات کونسل کا مردم شماری کا ریکارڈ شائع کرنے کا آرڈر کالعدم قرار دیا جائے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مردم شماری شروع اور ختم کب ہوئی؟ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ یہ میرے علم میں نہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ آرٹیکل 19 کے تحت ایک خط لکھ کر پوچھ لیتے، وکیل نے کہا کہ ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری دینے کی پریس ریلیز بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے پوچھا کہ کیا مردم شماری کا تعلق الیکشن کے انعقاد سے ہوتا ہے؟ اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ کیا یہ آئینی ضرورت ہے کہ ہر الیکشن سے قبل مردم شماری لازمی ہوگی؟۔عابد زبیری نے جواب دیا کہ نہیں یہ لازم نہیں ہے، گزشتہ مردم شماری 2017 میں ہوئی تھی، پانچ اگست کو مشترکہ مفادات کونسل نے مردم شماری جاری کرنے کی منظوری دی، سات اگست کو اس کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اس میں تو لکھا تھا وہ عبوری مردم شماری ہوگی، 2017 کی مردم شماری تو عبوری تھی اور صرف 2018 کے الیکشن کے لیے تھی، کیا اس کے بعد کوئی حتمی مردم شماری بھی ہوئی؟ اگر موجودہ مردم شماری کو کالعدم قرار دے دیا جائے تو الیکشن 2017 کی مردم شماری کے تحت ہوں گے؟۔

متعلقہ خبریں