اہم خبریں

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا نیب میں پیش نہ ہونے کا امکان

ملک میں جنگل کا قانون ہے جہاں صرف طاقتور کی حکمرانی ہے، عمران خان

لاہور ( اے بی این نیوز       ) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ جس پارٹی کا ووٹ بینک اوپر جا رہا ہو اس کو آپ دبا نہیں سکتے، پولیس لوگوں کے گھروں میں گھس رہی ہے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، وہ جرمن میڈیا ڈی ڈبلیو کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات چالیس دہشتگردوں کی آڑ میں میرے گھر پر حملہ کیا گیا، آپ جو حرکتیں کر رہے ہیں اس کے ذریعے پی ٹی آئی کو دبایا نہیں جا سکتا، شہر یار آفریدی اور اس کی بیگم کو پکڑ کر لے گئے، کسی مہذب معاشرے میں ایس نہیں ہو تا، ہمارے کارکن پر امن احتجاج کر رہے تھے ان پر سیدھے گو لیا چلائی گئیں، ملک میں صرف جنگل کا قانون ہے، آپ پی ڈی ایم کی جتنی مرضی مدد کر لیں ان کا ووٹ بینک ہی نہیں ہے، عثمان ڈار کے گھر میں گھس کر تو ڑ بھوڑ کی اور اس کی ماں سے بدتمیزی کی۔ ساری صورتحال واضح ہو گئی میرے گھر میں کو ئی دہشتگرد نہیں، ہمارے پچیس لوگ ابھی تک شہید ہو چکے ہیں، یہ نہ ہماری تعلیمات ہیں نہ ہی اسلام اس کی اجازت دیتا ہے،کو ئی غکط فہمی میں نہ رہے کہ اس دباو کی وجہ سے ہم پریشر مجھے جو ڈیشل کمپلیس کے اندر قتل کرنے کا پورا منصوبہ بنایا گیا تھا، میں آجائیں گے،حکومت کو نام لینے چاہئے کہ کون دہشتگرد ہے، مجھے معلوم ہے کہ ہر کو ئی دباو برداشت نہیں کر سکتا، اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ پر کس قسم کا دباو ہے،جب بھی شفاف تحقیقات ہو نگی اس منظم سازش کے بارے میں پتا چلے گا کہ کون ملوث تھا، انہوں نے مزید کہا کہ میں نے میڈیا کو پیشکش کی کہ خود آکر دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں کون دہشت گرد ہے، میں اپنے لوگوں کو کہتا ہوں کہ جانے والوں کو آپ برا بھلا نہ کہیں۔حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم اور آئین کی خلاف ورزی کی، ضمانت کے باوجود کسی بھی وقت میری دوبارہ گرفتاری کا خدشہ ہے۔عمران خان نے کہا کہ خدشہ ہے ضمانت کے باوجود مجھے کسی بھی وقت دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ملک میں جنگل کا قانون ہے جہاں صرف طاقتور کی حکمرانی ہے۔ بدھ کی رات چالیس دہشت گردوں کو پکڑنے کی آڑ میں میری رہائش گاہ پر حملے کا منصوبہ بنایا گیا، پولیس نے پورے علاقے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ میں نے میڈیا کو زمان پارک آنے کی پیشکش کی کہ وہ خود آکر تلاشی لے سکتے ہیں۔ اس سے ساری صورتحال واضح ہو گئی کیونکہ وہاں کوئی دہشت گرد موجود نہیں تھے۔عمران خان نے پارٹی چھوڑنے والوں سے متعلق کہا کہ قوم جانتی ہے کہ کس قسم کا دباؤ ڈالا جارہا ہے اکیلا بھی ملک کی حقیقی آزادی کیلئے کھڑا رہوں گا۔9 مئی کے احتجاج پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ تحقیقات کیلئے آزاد کمیشن بنایا جائے، آزاد تحقیقات ہوئیں تو ثابت ہو جائے گا سب منصوبہ بندی تھی، میں جیل میں تھا مجھے کچھ معلوم نہیں تھا لیکن 27 سال میں ایسا جلاؤ گھیراؤ نہیں ہوا، ہم منصوبہ بندی کے ثبوت دیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ نو مئی کو منصوبہ بندی کرکے لوگوں سے حملہ کروایا گیا، پولیس نے لوگوں کو جی ایچ کیو کی طرف دھکیلا ، لبرٹی سے جی ایچ کیو کی طرف جانے والوں کو کوئی روکنے والا نہیں تھا، واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کہاں ہیں۔انھوں نے کہا کہ مجھے غیر قانونی طریقے سے اغواء کیا گیا، میرے کارکنان پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں، ہمارے 7 ہزار 500 کارکنان اور تمام رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا جبکہ تقریباً 25 کارکنوں کو شہید کردیا گیا ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مجھ پر بھی 2 قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں، ہمارے ساتھ دہشت گردوں والا سلوک کیا جارہا ہے، منصوبے کا مقصد میری پارٹی کو ختم کرنا ہے، کارکنان نے عدالتی احاطے سے میرے غیرقانونی اغواء پر پرامن احتجاج کیا۔ پارٹی قیادت کو ضمانت کے باوجود جیلوں میں ڈال دیا گیا، جسےعدالت رہا کرنے کا حکم دیتی ہے یہ دوبارہ گرفتار کرلیتے ہیں، خواتین کارکنان کو بھی گرفتار کیا گیا۔ سابق وزیر شہریار آفریدی کو اہلیہ سمیت اٹھا لیا گیا۔مقدمات کی بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میرے اوپر 150 کے قریب مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ چار نئے کرمنل کیس اس وقت بنائے گئے جب میں جیل میں تھا، مجھ پر دہشت گردی کے 40 مقدمات بنائے گئے ہیں، ایک دن میں 50 کے قریب کرمنل کیسز بھی بنا دیے گئے۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ میرے اوپر 2 کرپشن کے مقدمات بنائے گئے ہیں۔ پاکستانی قوم مجھے 50 سال سے جانتی ہے، میں نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی، کوئی ان جھوٹے مقدمات اور الزامات پر یقین نہیں کریگا، میں خود پر حملے کی ایف آئی آر درج نہ کروا سکا۔

متعلقہ خبریں