اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین عاصم رضا احمد نےحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے پاکستان میں گندم، آٹے اور میدے کی آزادانہ نقل وحمل کی اجازت دی جائےجوکہ فلورملز کا جائز آئینی و قانونی حق ہے ، عالمی مارکیٹ میں گندم سستی جبکہ پاکستان میں مہنگی ہے،بیرون ملک سے گندم کی درآمد سے عوام کو سستا آٹا فراہم کر سکتے ہیں،افغانستان میں آٹے کی اسمگلنگ نہیں ہو رہی ہے،پنجاب کے ایک شہر سے دوسرے شہر آٹے کی نقل وحمل کو اسمگلنگ کہنا انتہائی غلط اور ناجائز ہے،افسرشاہی کی وجہ سے ہمارے مسائل حل نہیں ہو پاتے،پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب برانچ کے چیئرمین عاصم رضا احمدنے ان خیالات کا اظہار وائس چیئرمین سید رضا احمد شاہ، طارق سیٹھی،خواجہ عمران اور طارق صادق سمیت دیگر راہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،ان کا مزید کہنا تھا کہ فلور ملز انڈسٹری حکومت کو اربوں روپے سالانہ ٹیکس ادا کرتی ہے تاہم آجکل یہ انڈسٹری مسائل کا شکار ہے،وزیراعظم پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں عوام کو سبسڈائز آٹے کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں،سرکاری گندم اور آٹا صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہے مگر ہماری عوام کو سفید آٹا کھانے کی لت پڑ چکی ہے ،حکومت نے آٹے، میدے اور گندم کی ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی لگا رکھی ہے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہورہے ہیں یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں گندم 4000 روپے فی من جبکہ راولپنڈی میں 6000 روپے من مل رہی ہے، راولپنڈی میں رہنے والا شخص 2300 کا فی تھیلہ خریدتا ہے جبکہ یہی تھیلہ کے پی اور جی بی میں 3500 کا مل رہا ہے، جس کا اسے نقصان ہو رہا ہے،پشاور میں آٹا 180 روپے کلو میں بھی نہیں مل رہا ہے اور آتے کی قلت پیدا ہو رہی ہے،اس وقت تک راولپنڈی میں 130 سے زیادہ فلور ملز بند ہو چکی ہیں،عالمی مارکیٹ سے سستی گندم درآمد کرکے عوام کو ریلیف پہنچایا جا سکتا ہے،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا گندم ،آٹے اور میدے کی آزادانہ نقل و حمل کی اجازت دی جائے اور اسکے راستے میں کھڑی تمام رکاوٹیں ختم کی جائیں،حکومت ہمارے مسائل پر خصوصی اور فوری توجہ دے، افسر شاہی ہمارے مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہےجب تک افسر شاہی من مانی کرتی رہے گی یہ مسائل حل نہیں ہونگے۔ کاروبار کو آمرانہ انداز کے بجائےعوام کی ضرورت کے مطابق کاروباری انداز میںمسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیےکیونکہ ملک پہلے ہی انتہائی عدم استحکام کا شکار ہے اورآٹے کا خود ساختہ بحران اس پر جلتی پر تیل کا کام کرے گالہذاٰ اس خود ساختہ بحران پر قابوپانے کیلئے حکومت کو اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سےموثر اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔















