اسلام آباد ( اے بی این نیوز )وزارت خارجہ بیرون ملک قید پاکستانیوں کی تعداد سے لا علم ، غیرملکی جیلوں میں پاکستانیوں کی تعداد کے بارے میں معلومات دینے سے قاصر جو غیر قانونی طور پر بیرون ملک گئے اور کسی وجہ سے وہاں گرفتار یا قید ہیں۔بعض ممالک پرائیویسی کے قوانین کے تحت معلومات فراہم نہیں کرتے یورپی ممالک میں غیر قانونی تارکین وطن کی اکثریت پاکستانی سفارت خانوں سے خدمات لینے سے اس وجہ سے انکار کر دیتی ہے کہ کہیں ان کو واپس پاکستان ڈی پورٹ نہ کر دیا جائے۔دفتر خارجہ مختلف ممالک کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے متعلق معاہدوں کی تفصیلات فراہم کرنے سے قاصر ہے ،زرائع کے مطابق 11 ممالک کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے موجود ہیں جبکہ 38 ممالک کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے متعلق منصوبے زیر کار ہیں ۔ زرائع کے مطابق2018 سے 2020 ء تک مختلف ممالک میں قید 19 ہزار سے زائد پاکستانی قیدی وطن واپس لائے گئے ۔،، ترکی اور پاکستان کے مابین قیدیوں کے تبادلوں کے متعلق کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے ،اس وقت ترکی کی مختلف جیلوں میں چار سو سے زائد پاکستانی قید ہیں۔















