اسلام آباد(اے بی این نیوز )قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین کی انتیسویں میٹنگ پروفیسر ڈاکٹر قادر خان مندوخیل کی زیر صدارت منعقدہوئی۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس 43 سیکڈ ملازمین ہیں اور 37 ملازمین کانٹیجنٹ پر کام کر رہے ہیں،ان کانٹیجنٹ ملازمین کیلئے پوسٹیں نہیں تھیں جو کہ کمیٹی کے حکم پر عمل کرتے ہوئے پراسس مکمل ہو گیا ہے اور جلد ان کو ریگولر کر دیا جائے گا،سیکڈ ملازمین کو بحال کر دیا ہے،تنخواہ جاری ہے،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکڈ ملازمین کا کیس دوسرے اداروں کے سیکڈ ملازمین سے مختلف ہے،کیونکہ یہ تمام ملازمین دوسروں اداروں سے آئے ہیں۔کمیٹی نے احکامات جاری کئے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ایک تمام اداروں کیلئے سرکلر کرے کہ آئندہ اگر پوسٹ ہو تو کانٹیجنٹ سٹاف بھرتی کیا جائے،سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو 2 دن کے اندر سرکلر کرنے کا حکم.افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس سیکڈ ملازم صرف ایک تھا جو بحال ہو گیا،64 ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین تھے جن میں سے 37 کو کمیٹی کی حکم پر ریگولر کر دیا گیا ہے،7 ایسے ملازمین ہیں جن کی بھرتی کی وقت ہی عمر زائد تھی،21 ایسے ملازمین ہیں جن کی پوسٹیں نہیں ہیں۔کمیٹی نے حکم دیا کہ تمام ملازمین کو تین دن کے اندر ریگولر کر دیا جائے، کمیٹی نے ڈی جی ایف آئی اے کو بھی حکم دیتے ہوئے کہا کہ جن افسران نے لوک ورثہ اور اکادمی آف لیٹر میں زائد عمر ملازمین بھرتی کئے ان کی مکمل انکوائری رپورٹ دی جائے،افسران نے کمیٹی کو رپورٹ دی کہ ہمارے دیگر چاد ذیلی اداروں کے ملازمین کا کوئی ایشو نہیں ہے،کمیٹی نے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کو حکم دیا کہ حالیہ بھرتی اشتہار کو کینسل کیا جائے اور پہلے سے موجود ملازمین کو ایڈجسٹ کیا جائے اور منیارٹی،معذور کوٹہ سمیت صوبائی کوٹہ کو مدنظر رکھا جائے. ایم ڈی پی ٹی وی سہیل علی خان نے کمیٹی کو رپورٹ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی وی میں کوئی سیکڈ ملازم نہیں ہے،کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کی تعداد 783 ہے،ان تمام ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے کمیٹی کے حکم پر قوائدوضوابط کے تحت پراسس شروع کر دیا ہے،جلد ریگولر کر دیں گے،چیئرمین کمیٹی نے نے کہا کہ 21 دسمبر 2022 والی میٹنگ میں ریگولر کرنے کا واضح حکم تھا،ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا۔کمیٹی نے حکم دیا کہ 783 ملازمین کو 2 ہفتوں کے اندر اندر ریگولر کرنے کا حکم. وزارت اطلاعات و نشریات کے ذیلی ادارہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے پرنسپل آفیسر مبشر حسن نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس 23 کنٹریکٹ ملازمین کو فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے نکالا گیا ہے،وزارت اطلاعات و نشریات کے ذریعے وزارت خزانہ سے فنڈز مانگے ہیں،ملتے ہی ان ملازمین کو بحال کر دیا جائے گا،کمیٹی نے حکم دیا کہ ایک ہفتہ کے اندر 23 ملازمین کو بحال کیا جائے اور وزارت خزانہ کو فنڈ ریلیز کرنے کا بھی حکم۔وزارت اطلاعات و نشریات کے ذیلی ادارہ پریس کونسل آف پاکستان کے افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے چیئرمین کی تعیناتی نہیں ہوئی اس لئے ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں،افسران نے بتایا کہ ہمارے پاس 30 سیکڈ ملازمین نہیں ہیں اور ڈیلی ویجز 7 ہیں۔ سیکرٹری انفارمیشن نے کمیٹی کو کہا کہ چونکہ ان ملازمین کا کیس کورٹ میں ہے،ملازمین کورٹ کیس واپس لے لیں میں سب کو بحال کردوں گی،ملازمین نے رضا مندگی ظاہر کی۔سیکرٹری اطلاعات و نشریات نے کمیٹی کو یقین دہانی کروا دی۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے ذیلی ادارہ ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل طاہر حسن نے کمیٹی کو رپورٹ دیتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی کے حکم پر رضوانہ خان کی سنیارٹی والا ایشو حل کر دیا گیا ہے،اور 1020 ملازمین میں سے اب تک صرف 2 سو ملازمین نے رابطہ کیا ہے،2 سو ملازمین کو بحال کر دیا ہے،رخسانہ یاسمین نے بتایا کہ ابھی تک مجھے ریگولر نہیں کیا گیا،نسیم کوثر ملازمہ نے کمیٹی کو بتایا کہ 1020 ملازمین کی لسٹ میں میرا اور محمد تقی،کاشف شھزاد اور فرح ناز کا نام شامل نہیں ہے،ہمارا نام بھی شامل کروایا جائے،کمیٹی نے حکم دیا کہ نام شامل کیا جائے،کمیٹی نے 1000 بیوہ اور 4 ہزار ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کی ادائیگی وزارت خزانہ کو سابقہ احکامات پر عملدرآمد کا حکم اور کمیٹی نے مزید حکم دیا کہ پینشرز کو دو ماہ پینشن نہیں ملی اور آگے رمضان بھی آ رہا ہے،اس لئے ہرماہ کی 5 تاریخ تک پینشرز کی رقم ریلیز کی جائے۔وزارت اطلاعات و نشریات کے ذیلی ادارہ پیمرا کے افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس کوئی سیکڈ ملازم نہیں ہ…















