اہم خبریں

راولپنڈی سے گرفتارتحریک انصاف کے47 قائدین و کارکنان کی حراست کے خلاف پٹیشن سماعت کے لئے منظور

اسلام آباد ( اے بی این نیوز  )ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ نے جیل بھرو تحریک کے دوران راولپنڈی سے گرفتارتحریک انصاف کے47 قائدین و کارکنان کی حراست کے خلاف پٹیشن سماعت کے لئے منظور کر لی ہے عدالت نے پٹیشن کے فریقین کو نوٹس جاری کر تے ہوئے پیراوائز جواب طلب کر لیا ہے جسٹس چوہدری عبدالعزیز کے روبرو پٹیشن کی ابتدائی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان کا موقف تھا کہ عمران خان کی جیل بھرو تحریک پرزلفی بخاری، فیاض چوہان اور صداقت عباسی سمیت 7 اراکین اسمبلی نے رضاکارانہ گرفتاریاں دیں لیکن اب چونکہ سپریم کورٹ نے 90 دن میں انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے اورسپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عمران خان نے جیل بھرو تحریک بھی ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے لہٰذا عدالت گرفتار رہنماؤں کی حراست کے احکامات معطل کرے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالت یکطرفہ طور پر حراست کے حکومتی احکامات معطل نہیں کرسکتی عدالت نے پٹیشن کے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیراوائز جواب طلب کر لیاعدالت میں یہ پٹیشن زلفی بخاری کے والد سید واجد حسین بخاری نے دائر کی تھی جس میں پنجاب حکومت،ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، سینٹرل جیل اڈیالہ،شاہ پور جیل اور حافظ آباد جیل کے سپرنٹنڈنٹس کو فریق بنایا گیا ہے پٹیشن میں ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے 24فروری کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے پٹیشن میں کہاگیا ہے کہ زلفی بخاری سمیت دیگر زیر حراست47 قائدین و کارکنان کو ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ کے احکامات پاکستان مینٹی نینس آف پبلک آر ڈر آرڈی نینس 1960کی سیکشن 3(1) کے تحت سی پی او راولپنڈی نے 30دن کے لئے حراست میں لیا زیر حراست افراد کو پہلے راولپنڈی کی سینٹرل جیل اڈیالہ اور بعد ازاں انصاف کے منافی غیر قانونی طور پرڈسٹرکٹ جیل حافظ آباد اور شاہ پور جیل منتقل کیا گیا جو نہ صرف آئین کے آرٹیکل14بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی صریحا خلاف ورزی ہے اس طرح سرگودھا اور حافظ آباد کی جیلوں میں منتقلی کے بعد ان افراد کوبنیادی ضروریات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے جس سے زیر حراست افراد کی زندگیوں کو خطرہ ہے پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ پٹیشن کومنظور کرتے ہوئے 24فروری کے احکامات کو غیر قانونی اور بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیا جائے عجلت میں جاری انتظامی احکامات کو معطل کیا جائے اور درخواست گزارکے بیٹے سمیت تمام زیر حراست افراد کو رہا کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔

متعلقہ خبریں