اہم خبریں

پنجاب میں ماتحت عدلیہ کے ججز پر مونیٹائزیشن پالیسی نافذ

لاہور(اے بی این نیوز) سنیئر سول جج لاہور سعید احمد رانا کی قومی چینل سے خصوصی گفتگو ہوئی، پنجاب میں ماتحت عدلیہ کے ججز پر مونوٹائزیشن پالیسی کا نفاذ کردیا گیا، جس میں قومی خزانہ کو 6 ارب روپے کی بچت ہوئی، پالیسی کے ماتحت عدلیہ کے ججز اب سرکاری گاڑی استعمال نہیں کرسکیں گے، ججز سے ڈرائیو، گاڑیوں کی مینٹیننس، اور پٹرول کی سہولیات واپس لے لیں گئیں۔

چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت قومی جوڈیشل پالیسی کے اجلاس میں ملک کی عدلیہ کے اخراجات کم کرنے کے لیے مونٹایزیشن پالیسی منظور کی گئی، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ، بلوچستان سمیت دیگر ہائیکورٹس عمل درآمد کرکے ججز کو رعائتی قیمت پر گاڑیاں فکر ان سے سہولیات واپس لے لی گئیں تھی۔

سئنیر سول جج لاہور سعید احمد رانا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی ماتحت عدلیہ کے 1708 ججز پر مونٹایزیشن کی پالیسی لاگو کرکے رعایتی قیمت پر گاڑیاں دیں گئیں، جس میں اڑھائی لاکھ گاڑیوں کی قیمت والی صرف 10 فیصد گاڑیاں تھیں، بقایا گاڑیوں کی قیمت تقریبا 40 لاکھ روپے ہے۔

سنیئر سول جج سعید احمد رانا کا مزید کہنا تھا پالیسی کے تحت ماتحت عدلیہ کے ججز سے ڈرائیو، پٹرول ، گاڑیوں کی مینٹیننس اور آئل تبدیلی کے اخراجات سے متعلق یہ سہولتیں واپس لے لی گئیں ہیں، اگر اس پالیسی کا نفاذ نہ ہوتا تو 1708 ججز کی سرکاری 80 فیصد گاڑیوں کی مدت مکمل ہوچکی تھی، جس پر پنجاب حکومت نے 1708ججز کو 7 ارب روپے کی نئی گاڑیاں لیکر دینی تھی۔

سئنیر سول جج کا مزید کہنا تھا مونٹایزیشن پالیسی کی سہولت اگر کوئی جج نہیں لینا چاہتا تو یہ اسکی مرضی ہے، 47 ججز نے پالیسی سے استفادہ حاصل نہیں کیا اور سرکاری گاڑیوں از خود واپس کردیں، جبکہ رعایتی قیمت پر دی گاڑیوں کی مد میں ارب سے زائد رقم ججز سے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کروا دئیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی

متعلقہ خبریں