اہم خبریں

پاکستان میں 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 12.2 فیصد صارفین آن لائن خطرات کا نشانہ بنے، کیسپرسکی

پاکستان میں 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 12.2 فیصد صارفین آن لائن خطرات کا نشانہ بنے، کیسپرسکی

اسلام آباد( اے بی این نیوز) عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کی گلوبل ریسرچ اینڈ اینالیسس ٹیم نے مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور افریقہ ریجن کے حوالے سے سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران سائبر خطرات سے متعلق اہم رجحانات پر رپورٹ جاری کر دی۔

رپورٹ کے مطابق سائبر سیکیورٹی کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور آن لائن خطرات پہلے سے زیادہ متنوع اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ جغرافیائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال بھی سائبر جرائم اور جدید نوعیت کے سائبر حملوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

کیسپرسکی کی ٹیلی میٹری کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران ویب سائٹس، ای میلز اور مختلف ویب سروسز میں موجود کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کیے جانے والے آن لائن حملوں نے پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور افریقہ خطے میں لاکھوں صارفین کو متاثر کیا۔اعداد و شمار کے مطابق ویب پر مبنی خطرات سے متاثر ہونے والے صارفین کی شرح ترکیہ میں سب سے زیادہ 22.8 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ کینیا 21.2 فیصد اور قطر 19.3 فیصد کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

دوسری جانب سعودی عرب، اردن اور پاکستان میں ویب پر مبنی حملوں کا تناسب نسبتاً کم رہا۔ پاکستان میں 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 12.2 فیصد کیسپرسکی صارفین کو آن لائن خطرات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم کیسپرسکی کے سیکیورٹی حل نے ان حملوں کو کامیابی سے بلاک کر دیا۔ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت اب میلویئر کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

کیسپرسکی میں ایشیا پیسیفک اور مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور افریقہ ریجن ریجنز کے ہیڈ آف گلوبل ریسرچ اینڈ اینالیسس ٹیم سرگئی لوژکن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت 2026 کے دوران بھی سائبر خطرات کی نوعیت پر گہرا اثر ڈالتی رہے گی۔ انہوں نے کہا، ”ہم پہلے ہی دیکھ رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت حملہ آوروں کے طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہوئے ان کی کارروائیوں کو زیادہ تیز اور مؤثر بنا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی بدولت نقصان دہ ٹولز کی تیاری اور انہیں نئے حالات کے مطابق ڈھالنے میں درکار وقت اور لاگت کم ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں سائبر مجرم زیادہ تیزی سے اپنی حکمت عملی تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس لیے دفاعی اداروں کو بھی تیزی سے بدلتے ہوئے خطرات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔”

ماہرین کے مطابق حملہ آور اب چوری شدہ ڈیٹا کو عام نیٹ ورک ٹریفک میں چھپانے کے لیے جائز کلاؤڈ اور فائل شیئرنگ سروسز استعمال کر رہے ہیں، جس سے ان کی سرگرمیوں کا سراغ لگانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح رینسم ویئر حملہ آور صرف ڈیٹا کو انکرپٹ کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ اب وہ کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں میں بھی خلل ڈال رہے ہیں تاکہ متاثرہ اداروں پر تاوان کی ادائیگی کے لیے زیادہ دباؤ ڈالا جا سکے۔

کیسپرسکی نے سفارش کی ہے کہ ادارے اپنی سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے مستقل بنیادوں پر کمزوریوں کی نشاندہی، بروقت سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، ملازمین کی سائبر آگاہی کی تربیت، تھریٹ انٹیلیجنس اور کیسپرسکی نیکسٹ جیسے جدید سیکیورٹی حل استعمال کریں، جو جدید اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیے جانے والے سائبر حملوں کا مؤثر انداز میں پتہ لگانے اور انہیں روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں‌:اداکار عروبہ مرزا کا ثاقب چڈھر پر پیغامات بھیجنے کا الزام

متعلقہ خبریں