اہم خبریں

بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا رجحان تیز، دنیا کے کئی ممالک نے سخت قوانین نافذ کر دیے

اسلام آباد(اے بی این نیوز) دنیا بھر میں بچوں اور نوعمروں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندیاں یا سخت ضوابط نافذ کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مختلف ممالک کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بچوں کی ذہنی صحت، سائبر بلینگ، سوشل میڈیا کی لت اور آن لائن رازداری کے خطرات سے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاہم ناقدین عمر کی تصدیق، رازداری اور سنسرشپ سے متعلق خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک بن چکا ہے جہاں دسمبر 2025 سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے TikTok، Instagram، Facebook، YouTube، Snapchat، X اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ رکھنے پر پابندی نافذ ہے، جبکہ قوانین پر عمل نہ کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھاری جرمانے بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

اسی طرز پر ملائیشیا، انڈونیشیا، برازیل، فرانس، ترکی اور متحدہ عرب امارات بھی کم عمر صارفین کے لیے عمر کی حد اور لازمی عمر کی تصدیق جیسے قوانین نافذ کر چکے ہیں یا ان پر عمل درآمد شروع کر رہے ہیں۔

دوسری جانب برطانیہ، ڈنمارک، کینیڈا، یونان، ہسپانیہ، آسٹریا، پولینڈ، سلووینیا اور کئی دیگر یورپی ممالک بھی بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندیاں متعارف کرانے پر غور کر رہے ہیں۔

ادھر چین نے مکمل پابندی عائد کرنے کے بجائے یوتھ موڈ، روزانہ استعمال کی وقت کی حد اور دیگر سخت ڈیجیٹل کنٹرولز نافذ کر رکھے ہیں تاکہ کم عمر صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کو محدود رکھا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق ان قوانین کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ بنانا ہے، تاہم عمر کی تصدیق کے لیے شناختی کارڈ یا چہرے کی شناخت جیسے طریقوں سے رازداری، ذاتی معلومات کے تحفظ اور انٹرنیٹ پر ممکنہ سنسرشپ کے حوالے سے نئی بحث بھی جنم لے رہی ہے۔ کئی ممالک اب آسٹریلیا کے ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے اسی نوعیت کے قوانین متعارف کرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: استعمال شدہ گاڑی خریدنے سے پہلے یہ کام ضرور کرلیں،حکومت نے بڑی سہولت فراہم کردی

متعلقہ خبریں