اہم خبریں

نواز شریف آزاد کشمیر جلسہ میں ترقیاتی منصوبوں اور وعدوں کا اعلان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف آزاد کشمیر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوام نے اعتماد کا اظہار کیا تو وہ آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے بھرپور اقدامات کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انتخابات میں کامیابی ملی تو وہ وزیراعظم شہباز شریف سے کہیں گے کہ انہیں آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیا جائے۔

مظفر آباد میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کافی عرصے بعد آزاد کشمیر کے عوام سے براہ راست ملاقات کا موقع ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر دونوں سے دلی وابستگی ہے اور وہ ہمیشہ اس خطے کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مظفر آباد جیسے خوبصورت شہر میں موٹروے طرز کے منصوبے کیوں نہیں بنائے گئے۔ ان کے مطابق دریائے جہلم کے کنارے جدید شاہراہ کی تعمیر نہ صرف سفری سہولت فراہم کرے گی بلکہ سیاحت کو بھی فروغ دے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پنجاب کی طرح آزاد کشمیر میں بھی بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت نے ماضی میں کبھی بھی ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم میں کسی صوبے یا علاقے کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور ملک کے چاروں صوبوں میں یکساں ترقی ان کی پالیسی کا حصہ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے دوبارہ موقع دیا تو آزاد کشمیر کے تمام اہم مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق وہ ہر تین ماہ بعد آزاد کشمیر کا دورہ کریں گے تاکہ جاری منصوبوں کا خود جائزہ لے سکیں اور عوام سے رابطہ برقرار رہے۔

جلسے سے خطاب میں نواز شریف نے مزید اعلان کیا کہ آئندہ چند روز میں مظفر آباد کے لیے 10 گرین بسیں فراہم کی جائیں گی جبکہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے 15 موبائل ہسپتال بھی بھیجے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ لاہور کی طرز کی ترقی مظفر آباد اور دیگر علاقوں میں بھی نظر آئے، تاکہ عوام کو جدید انفراسٹرکچر، بہتر سفری سہولیات اور معیاری بنیادی خدمات میسر آ سکیں۔ نواز شریف آزاد کشمیر جلسہ میں کیے گئے ان اعلانات کو شرکاء نے بھرپور توجہ سے سنا۔

متعلقہ خبریں