اسلام آباد (اے بی این نیوز) حکومت نے نئی آٹو پالیسی جولائی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور انہیں 20 سے 25 لاکھ روپے کی حد میں دستیاب بنانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ الیکٹرک گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے فروغ، چارجنگ انفراسٹرکچر کی توسیع اور آٹو سیکٹر میں اصلاحات پر بھی کام تیز کر دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں سامنے آئی، جو چیئرمین سید حفیظ الدین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں نئی آٹو پالیسی، گاڑیوں کی قیمتوں، الیکٹرک وہیکلز کے معیار، سبسڈی اور صارفین کے تحفظ سے متعلق اہم معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
وزارتِ صنعت و پیداوار کے سیکرٹری نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر اویس لغاری کی سربراہی میں قائم آٹو پالیسی کمیٹی اپنی سفارشات جولائی تک مکمل کر لے گی، جس کے بعد نئی آٹو پالیسی نافذ کر دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پالیسی میں چھوٹی گاڑیوں اور الیکٹرک وہیکلز کی مقامی تیاری کو خصوصی ترجیح دی جائے گی تاکہ عام شہریوں کو کم قیمت پر جدید ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر آ سکے۔
بریفنگ کے مطابق حکومت نے سال 2030 تک ملک بھر میں 3 ہزار الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔ رواں سال ملک میں 1 لاکھ 60 ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلیں اور 12 ہزار 800 الیکٹرک گاڑیاں مقامی سطح پر تیار کی جا چکی ہیں۔
اجلاس کے دوران ارکان نے الیکٹرک بائیکس اور بیٹریوں کے معیار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ رکن کمیٹی محمد اقبال خان نے کہا کہ مقامی سطح پر تیار کی جانے والی الیکٹرک بائیکس کا معیار تسلی بخش نہیں، جبکہ ان کی بیٹریاں چند ماہ میں ناکارہ ہو جاتی ہیں، اس لیے عالمی معیار کے مطابق مینوفیکچرنگ یقینی بنائی جائے۔
رکن کمیٹی عبدالحکیم بلوچ نے بھی ناقص بیٹریوں کے معیار کی نشاندہی کی، جبکہ چیئرمین کمیٹی سید حفیظ الدین نے الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر دی جانے والی سبسڈی کی تقسیم میں بے ضابطگیوں پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے بتایا کہ 80 ہزار روپے فی موٹر سائیکل سبسڈی سندھ کے صارفین کو فراہم نہیں کی جا رہی، جبکہ بعض غیر متعلقہ فیکٹریوں کو بھی مینوفیکچرنگ کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ارکان کے احتجاج کے بعد قائمہ کمیٹی نے غیر معیاری الیکٹرک موٹر سائیکلوں، ناقص بیٹریوں اور سبسڈی کی تقسیم سے متعلق معاملات کی تحقیقات کے لیے ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس میں پروٹون گاڑیوں کے نمائندے نے بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 816 متاثرہ صارفین میں سے 93 فیصد کو رقوم واپس کر دی گئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 1 ارب 10 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔
رکن کمیٹی مہرین بھٹو نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی مؤثر مداخلت کے باعث متاثرہ صارفین کو ریلیف ملا، جبکہ نئی آٹو پالیسی کے مؤثر نفاذ سے نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی آئے گی بلکہ آٹو انڈسٹری میں مقابلے کی فضا بھی بہتر ہوگی۔
مزید پڑھیں:دوحہ مذاکرات پر عالمی نظریں، خام تیل کی قیمتوں میں کمی، جانیے تازہ اپڈیٹ















