لندن/دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی منڈی میں منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ممکنہ مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 75 سینٹ یا 1.03 فیصد کمی کے بعد 72.26 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 47 سینٹ یا 0.66 فیصد کمی کے بعد 70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ اسی دوران اماراتی مربن خام تیل تقریباً 69 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کار دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت سے متعلق محتاط انداز میں پرامید ہیں۔ کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو عالمی توانائی مارکیٹ میں مزید استحکام آ سکتا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل ابھی مکمل طور پر معمول پر آنے کے واضح آثار سامنے نہیں آئے۔
انہوں نے کہا کہ مارکیٹ فی الحال محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور کشیدگی میں حقیقی کمی کے مزید شواہد کی منتظر ہے۔
دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ایران اور عمان کے ماہرین آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کی ازسرنو تعیین کے حوالے سے مذاکرات کریں گے، تاکہ خطے میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنایا جا سکے۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ آنے والے دنوں میں امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات کا کوئی باضابطہ اجلاس طے نہیں ہوا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں ممکنہ ملاقات اہم بھی ثابت ہو سکتی ہے اور نہیں بھی، اس کا اندازہ وقت آنے پر ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ رابطوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے 17 جون کو ہونے والی عارضی جنگ بندی کی نازک حیثیت کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ اس دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل کی ترسیل متاثر رہی، جبکہ اسرائیل نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن کوششوں میں شمولیت اختیار نہیں کی۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق حالیہ کشیدگی اور حملوں کے باوجود مشرق وسطیٰ کے تیل اور ایل این جی پیدا کرنے والے ممالک اپنی برآمدی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم سرمایہ کار اب بھی خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آئندہ چند روز میں ہونے والی سفارتی پیش رفت عالمی تیل مارکیٹ کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:سونے کی قیمتیں اچانک گر گئیں،خریداروں کیلئے بڑی خبر















