اہم خبریں

اوگرا مستقل سربراہ سے محروم، پیٹرولیم قیمتوں کے نئے نظام کے باوجود اہم عہدے خالی

اسلام آباد(رضوان عباسی )وفاقی حکومت پانچ ماہ گزرنے کے باوجود آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کا مستقل چیئرمین تعینات نہیں کر سکی، جبکہ ادارے میں ممبر آئل کی اہم نشست بھی خالی ہے۔ اس صورتحال میں تیل و گیس کے شعبے کے ریگولیٹری ادارے کو بدستور عبوری انتظام کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین اوگرا کا عہدہ 22 فروری 2026 سے خالی ہے، جبکہ ممبر آئل کی نشست 11 جون 2026 سے خالی پڑی ہے۔ مستقل تقرری نہ ہونے کے باعث سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو چیئرمین اوگرا کا اضافی چارج سونپا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ بنیاد پر تعین کی ذمہ داری اوگرا کو سونپی ہے، تاہم ادارے کی دو اہم ترین نشستیں تاحال خالی ہیں، جس پر متعلقہ حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق کابینہ ڈویژن نے رواں سال جنوری میں مستقل چیئرمین اوگرا کی تقرری کا عمل شروع کیا تھا، تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود تقرری مکمل نہیں ہو سکی۔

ذرائع نے بتایا کہ ممبر آئل اوگرا کا استعفیٰ گزشتہ ماہ وفاقی حکومت نے منظور کیا، جس کے بعد یہ عہدہ بھی خالی ہو گیا ہے۔

دریں اثنا وفاقی حکومت نے حال ہی میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اوگرا آرڈیننس میں ترمیم کی ہے۔ اس ترمیم کے تحت وفاقی حکومت کو گریڈ 21 یا اس سے اوپر کے کسی بھی سول سرونٹ کو چیئرمین اوگرا کا اضافی چارج دینے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے، جس کے تحت اس وقت سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن یہ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: سونے کی قیمت کو اچانک ریورس گیئر لگ گیا،قیمت میں ریکارڈ کمی

متعلقہ خبریں