امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپTrump ایک بار پھر اپنے غیر معمولی اور متنازعہ سوشل میڈیا انداز کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق انہوں نے ایک ہی رات میں اپنے پلیٹ فارم پر 50 سے زائد پوسٹس شیئر کر دیں، جس نے سیاسی اور ڈیجیٹل حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
ان پوسٹس میں صدر نے اپنے دیرینہ سیاسی شکوے ایک بار پھر دہرائے، مخالفین پر سخت تنقید کی اور مختلف دعوؤں کے ذریعے متنازعہ بیانیہ اپنایا۔ ان کے مواد میں ایسے بیانات بھی شامل تھے جنہیں مبصرین نے بے بنیاد سازشی نظریات قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی پوسٹس میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر بھی شامل تھیں۔ ان تصاویر میں ایرانی جہازوں اور سمندری کشتیوں کو نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ ایک اور تصویر میں امریکی کرنسی ڈالر پر صدر کی تصویر نمایاں کی گئی۔ ایک متنازعہ منظر میں سابق صدور باراک اوباما اور جو بائیڈن کو گندے پانی کے جوہڑ میں دکھایا گیا، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
سہیل آفریدی نے طبل جنگ بجا دیا،حکومت کو ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیدی
صدر ٹرمپ نے ان تصاویر کے ساتھ مختصر مگر معنی خیز اور بعض اوقات الجھاؤ پیدا کرنے والے جملے بھی لکھے، جنہوں نے سوشل میڈیا صارفین کو مزید حیران کر دیا۔ ان پوسٹس کے بعد پلیٹ فارم پر بحث چھڑ گئی اور ہزاروں صارفین نے اس رویے کو غیر معمولی اور غیر سنجیدہ قرار دیا۔
کئی صارفین نے طنزیہ اور تنقیدی انداز میں کہا کہ چین کے دورے سے قبل اس طرح کی سرگرمیاں عالمی سیاست کے لیے مثبت اشارہ نہیں ہیں۔ کچھ نے اسے “ڈیجیٹل پاگل پن” قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک عالمی رہنما کی جانب سے اس طرز کے بیانات اور تصاویر کتنے مناسب ہیں۔















