پنجاب حکومت نے مہنگائی اور بڑھتی ہوئی پیٹرول قیمتوں سے پریشان عوام کیلئے بڑا ریلیف پیکج متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت 150 سی سی تک کی موٹرسائیکلوں کی ٹرانسفر فیس Bike Transfer Feeمکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ اس اعلان کے بعد لاکھوں موٹرسائیکل سواروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز Maryam Nawazنے اپنے پیغام میں کہا کہ حکومت عام شہریوں، خاص طور پر متوسط اور کم آمدن طبقے کو ریلیف دینے کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ بڑھتی مہنگائی کے اثرات کم کیے جا سکیں۔ حکومتی فیصلے کے مطابق 150 سی سی تک کی موٹرسائیکلوں پر ٹرانسفر فیس ختم کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر اہم فیسوں میں بھی چھوٹ دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق موٹرسائیکل ٹرانسفر فیس، اضافی رجسٹریشن مارک فیس اور اسمارٹ کارڈ فیس بھی معاف کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے شہریوں کو ہزاروں روپے کی براہ راست بچت ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نہ صرف مالی ریلیف فراہم کرنا ہے بلکہ رجسٹریشن کے عمل کو بھی آسان بنانا ہے۔
اس کے علاوہ رجسٹرڈ موٹرسائیکل مالکان کو ہر ماہ 20 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جسے عوام کیلئے بڑا معاشی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔ شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کیلئے موبائل ایپ، ہیلپ لائن اور سرکاری ویب پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکیں گے۔
ہزاروں کلو میٹر رینج کے میزائل کا کامیاب تجربہ،امریکہ اور یورپ ہدف پر آگئے
دوسری جانب پنجاب حکومت نے الیکٹرک بائیکس، رکشہ اور لوڈرز کی سبسڈی سکیم کے دوسرے مرحلے کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں ہزاروں افراد کو الیکٹرک بائیکس فراہم کی جا چکی ہیں جبکہ اب آئندہ چند ماہ میں مزید ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس متعارف کروانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
حکومت نے ہر الیکٹرک بائیک پر 80 ہزار روپے سبسڈی دینے کا اعلان بھی کیا ہے جبکہ گریڈ 16 یا اس سے کم درجے کے سرکاری ملازمین کو بلاسود بائیکس اور رکشے فراہم کیے جائیں گے۔ اس سکیم کے تحت صرف معمولی ابتدائی ادائیگی کے بعد باقی رقم آسان اقساط میں وصول کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سال مجموعی طور پر ایک لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس اور ہزاروں رکشے و لوڈرز تقسیم کیے جائیں گے، جس سے نہ صرف شہریوں کے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ ایندھن کی بچت اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔















