راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے زیر اہتمام معرکۂ حق کی پہلی برسی کے موقع پر خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں اعلیٰ عسکری قیادت Asim Munirنے پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی، علاقائی صورتحال اور مستقبل کے خطرات پر واضح مؤقف پیش کیا۔
فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں کہا کہ معرکۂ حق پاکستان کے لیے صرف ایک فوجی معرکہ نہیں بلکہ دو نظریات کے درمیان فیصلہ کن موڑ تھا، جس میں ملک نے واضح کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق یہ دن قوم کے لیے فخر اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کا مظہر ہے۔
ایران نے امریکہ کو جواب دیدیا،جا نئے کیا ترجیحات رکھیں
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس دشمن نے کئی دن تک پاکستان کی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے بروقت اور مؤثر جواب دے کر دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
فوجی سربراہ کے مطابق پاکستان کا دفاع اب پہلے سے زیادہ مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ہے، اور آئندہ کسی بھی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ سخت، دور رس اور فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔
خطاب میں جدید جنگی حکمتِ عملی پر بھی بات کی گئی جس میں ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر وار فیئر اور مصنوعی ذہانت کو مستقبل کے جنگی منظرنامے کا حصہ قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ دفاعی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا۔
تقریب میں سفارتی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کی ذمہ دارانہ سفارتکاری نے خطے میں امن مذاکرات کے نئے دروازے کھولے ہیں، جبکہ بعض عالمی اور علاقائی چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔
آخر میں شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔















