بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر اور دیگر سرحدی علاقوں میں ایرانی پیٹرولPetrol, کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے مقامی صارفین اور چھوٹے کاروباری طبقے کو مشکلات کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ کسی حکومتی فیصلے کے بجائے سرحدی علاقے کنٹانی ہور پر تجارتی سرگرمیوں کی بندش کے باعث ہوا ہے، جس سے سپلائی متاثر ہوئی۔
ایران کا دوٹوک مؤقف، کسی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنے سے انکار
اس سے قبل ایرانی پیٹرول 170 سے 180 روپے فی لیٹر میں دستیاب تھا، تاہم اب یہ نرخ بڑھ کر 200 سے 210 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئے ہیں۔مقامی تاجر اس صورتحال کو سپلائی چین میں خلل کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ صارفین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ان کے لیے مشکلات بڑھا رہا ہے۔















