پاکستان میں پیٹرولPetrol اور ڈیزلDiesel کی قیمتوں میں ٹیکسز اور مختلف چارجز کا بڑا حصہ سامنے آگیا ہے، جس کے بعد ایندھن کی اصل قیمت اور صارف تک پہنچنے والی قیمت میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں مجموعی طور پر بھاری ٹیکسز، لیوی، ڈیوٹی Fuel Taxes اور دیگر اخراجات شامل ہونے سے عوام پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر بنیادی قیمت ٹیکسز کے بغیر تقریباً 216 روپے 68 پیسے بنتی ہے، جبکہ اس میں تقریباً 198 روپے سے زائد کے مختلف ٹیکسز اور چارجز شامل کیے جا رہے ہیں۔ ان میں 117 روپے 41 پیسے پیٹرولیم لیوی، 22 روپے 74 پیسے کسٹم ڈیوٹی، کلائمٹ سپورٹ لیوی، ڈسٹری بیوشن مارجن، فریٹ چارجز، آئل کمپنیوں کا منافع اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پریمیم اور ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ بھی قیمت کا حصہ بنتے ہیں۔
جنوبی ایشیا شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں، درجہ حرارت نے خطرے کی حد عبور کر لی، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سب سے زیادہ متاثر
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 113 روپے سے زائد کے ٹیکسز شامل ہیں۔ ڈیزل پر بھی پیٹرولیم لیوی، کسٹم ڈیوٹی، کلائمٹ سپورٹ لیوی، سمندری نقصان چارجز، فریٹ مارجن، ڈسٹری بیوشن مارجن اور آئل کمپنیوں کا منافع شامل کیا جاتا ہے، جبکہ بین الاقوامی پریمیم بھی قیمت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ یہ وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے دنیا بھر سے زیادہ پٹرول پاکستان میں مہنگا ہے۔















