اہم خبریں

جنوبی ایشیا شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں، درجہ حرارت نے خطرے کی حد عبور کر لی، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سب سے زیادہ متاثر

جنوبی ایشیاSouth Asia Heatwave اس وقت تاریخ کی خطرناک ترین گرمی Heatwaveکی لہروں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے جہاں پاکستان، Pakistan Weatherبھارت اور بنگلہ دیش میں درجہ حرارت نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ شدید ہیٹ ویو کے باعث روزمرہ زندگی، ٹرانسپورٹ، صحت اور بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے جبکہ ماہرین نے آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

بھارت میں محکمہ موسمیات نے گجرات، مہاراشٹر اور ساحلی علاقوں میں شدید گرمی کا ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کئی علاقوں میں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔ مختلف بھارتی ریاستوں میں ہیٹ اسٹروک کے باعث متعدد اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان میں سندھ کے مختلف شہر شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ کراچی، جیکب آباد، سکھر اور دیگر علاقوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ کراچی میں 44 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ کئی برسوں کی بلند ترین سطح قرار دیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات اور ریسکیو اداروں نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، پانی زیادہ پینے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

بنگلہ دیش میں بھی دارالحکومت ڈھاکا سمیت مختلف شہروں میں شدید گرمی معمولات زندگی متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق جنوبی ایشیا میں ہیٹ ویوز اب مستقل خطرہ بنتی جا رہی ہیں لیکن اس بار گرمی کی شدت، دورانیہ اور اس کا پھیلاؤ غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، کم بارشیں اور بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اس شدید گرمی کی بڑی وجوہات ہیں۔ دیہاڑی دار مزدور، بزرگ، بچے اور کم آمدن والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جبکہ بجلی کی بڑھتی طلب نے کئی شہروں میں لوڈ مینجمنٹ کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔

طبی ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ دوپہر کے اوقات میں باہر نکلنے سے گریز کریں، ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں اور جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں تاکہ ہیٹ اسٹروک اور دیگر خطرناک طبی مسائل سے محفوظ رہا جا سکے۔

متعلقہ خبریں