پاکستان میں گیس کی شدید قلت gas shortage نے ایل پی جی کی قیمتوں کو بھی نئی بلند سطح inflation پر پہنچا دیا ہے، جس سے عام صارفین کے گھریلو بجٹ پر دباؤ مزید Sui gas crisis بڑھ گیا ہے۔اسلام آباد اور دیگر شہری علاقوں میں سوئی گیس کی مسلسل کمی کے باعث لوگ متبادل ایندھن یعنی ایل پی جی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ ذرائع کے مطابق مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتیں 430 سے 460 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہیں، جو متوسط اور نچلے طبقے کے لیے برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف باقاعدگی سے گیس کے بل ادا کیے جا رہے ہیں، دوسری طرف انہیں مہنگی ایل پی جی خریدنی پڑ رہی ہے، جس سے ماہانہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ خاص طور پر کم آمدنی والے گھرانے اس بحران سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
سمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ ، تاجر برادری نے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا
رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں گیس کی کمی کی بنیادی وجہ آر ایل این جی (Regasified Liquefied Natural Gas) کی قلت اور موجودہ ذخائر میں تیزی سے کمی ہے۔ گیس کا شارٹ فال تقریباً 600 ملین کیوبک فٹ تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث بجلی اور کھاد کے شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ملک میں روزانہ گیس کی دستیابی تقریباً 1200 ملین کیوبک فٹ سے کم ہو کر 700 ملین کیوبک فٹ تک آ گئی ہے، جبکہ طلب اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس عدم توازن نے گھریلو اور صنعتی دونوں شعبوں میں مشکلات بڑھا دی ہیں۔















