اہم خبریں

سعودی عرب ،پاکستانیوں کیلئے روزگار کے دروازے کھل گئے

اسلام آباد (اے بی این نیوز) سعودی عرب وژن 2030 کے تحت مختلف شعبوں میں غیر ملکیوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔

مملکت میں’سعودائزیشن‘ پالیسی بھی نافذ ہے، جس کے تحت مختلف شعبوں میں سعودی شہریوں کو زیادہ ملازمتیں دی جا رہی ہیں۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیرملکیوں کے لیے مواقع ختم ہوگئے ہیں، بلکہ اب ان کے لیے صرف وہی مواقع موجود ہیں جہاں خاص مہارت اور تجربہ درکار ہو۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق سعودی عرب میں وژن 2030 کے تحت معیشت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ جس سے پاکستانی ہنرمندوں اور ماہرین کے لیے ملازمت، سرمایہ کاری اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

ادارے کے مطابق سعودی وژن 2030 کا مقصد ملک کو ایک متنوع اور نجی شعبے کی قیادت میں چلنے والی معیشت میں تبدیل کرنا ہے، جہاں تیل پر انحصار کم کرکے دیگر شعبوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
Bureau of Emigration and Overseas Employment
جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں کان کنی اور معدنیات، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، صحت، دفاعی صنعت، سیاحت، ثقافتی ورثہ، کھیل اور تفریح جیسے شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔

کان کنی کے شعبے میں سونا، فاسفیٹ، یورینیم کی تلاش اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے ماہرین درکار ہیں، جبکہ قابلِ تجدید توانائی میں سولر اور ونڈ انرجی کے اسپیشلسٹس کی طلب بڑھ رہی ہے۔

اسی طرح ڈیجیٹل شعبے میں ای گورننس، ٹیلی کام، کلاؤڈ سروسز اور ڈیٹا شیئرنگ سے متعلق ماہرین کے لیے مواقع موجود ہیں۔

لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پورٹ مینجمنٹ، ریلوے انجینئرنگ اور عالمی تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔

صحت کے شعبے میں دائمی بیماریوں کے اسپیشلسٹس، ہیلتھ کیئر مینجمنٹ اور نجی انشورنس کے ماہرین کی ضرورت برقرار ہے، جبکہ دفاعی صنعت میں ایوی ایشن، الیکٹرانکس اور مقامی عسکری ضروریات سے متعلق مہارت رکھنے والوں کے لیے بھی مواقع موجود ہیں۔

سیاحت اور ہوٹلنگ کے شعبے میں عمرہ زائرین میں اضافے، تاریخی مقامات کی بحالی اور مہمان نوازی سے متعلق منصوبوں پر کام جاری ہے، اسی طرح کھیل اور تفریح کے میدان میں بین الاقوامی سرمایہ کاری اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق سعودی عرب جانے کے خواہشمند افراد کو جدید ٹیکنالوجی، اختراعی مہارت، تربیتی صلاحیت اور شفاف کارکردگی پر توجہ دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ خصوصی اقتصادی زونز اور کاروباری شراکت داریوں میں بھی امکانات موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: گرینڈ حیات اسلام آباد کیس طویل قانونی جنگ کے بعد بند کردیا گیا

متعلقہ خبریں