اسلام آباد(رضوان عباسی )بھارت کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان کے دریائی پانی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے خدشات سامنے آگئے ہیں، کیونکہ پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے چناب کے پانی میں اچانک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
واپڈا کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر صرف ایک ہی روز میں دریائے چناب کے پانی کی آمد میں 11 ہزار 900 کیوسک کی بڑی کمی سامنے آئی ہے۔ گزشتہ روز جہاں دریائے چناب میں پانی کی آمد 20 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کی گئی تھی، وہیں آج یہ کم ہو کر صرف 9 ہزار کیوسک رہ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق آج ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب سے پانی کا اخراج ایک ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ روز یہی اخراج 13 ہزار 100 کیوسک تھا۔
امریکہ نے ایرانی ڈرون شاہد کے مقابلے میں “گارڈین2 نامی ڈرون تیار کر لیا،ٹرمپ کے بیٹوں کی حمایت یافتہ کمپنی سے معاہد طے
واپڈا کے ریکارڈ کے مطابق یکم مئی کو بھی ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 20 ہزار 900 کیوسک تھی، جبکہ 30 اپریل کو یہاں پانی کی آمد 25 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 17 ہزار 400 کیوسک ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق دریائے چناب میں پانی کی آمد میں اچانک کمی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارت کی جانب سے اوپر کی جانب پانی روکنے یا بہاؤ کم کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو پنجاب کے نہری نظام اور زرعی شعبے پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکام اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ متعلقہ ادارے مزید تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔















