ایران iran نے عالمی سفارتی صورتحال پر دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ منطقی اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کیلئے تیار ہے، تاہم کسی بھی مسلط کردہ یا دباؤ پر مبنی بات چیت کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی عدلیہ کے سربراہ Gholam-Hossein Mohseni-Ejei نے تہران سے جاری بیان میں اس پالیسی کو واضح کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ عقلیت اور منطق پر مبنی مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے، لیکن دھمکیوں اور جارحیت کے ذریعے مطالبات منوانے کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو فریق دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ مذاکرات کی میز پر غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات نہیں رکھ سکتے۔
ٹرمپ ایران کی تجاویز سے مطمئن نہیں، سخت بیانات کے تبادلے،جا نئے تفصیل
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ایران کے وقار اور خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا تو ملک کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کیلئے ہر ممکن قدم اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر سخت ردعمل بھی دیا جا سکتا ہے۔















