امریکی بحریہ کا جدید ترین اور دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford مشرق وسطیٰ سے واپسی کیلئے روانہ ہو گیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ جہاز اب اپنے ہوم پورٹ کی جانب جا رہا ہے، جو Naval Station Norfolk میں واقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس بحری بیڑے کی یورپی کمانڈ کے دائرہ کار میں منتقلی کے بعد بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری موجودگی برقرار ہے۔ اس وقت خطے میں USS Abraham Lincoln اور USS George H. W. Bush سمیت دیگر جنگی جہاز موجود ہیں، جو امریکا کی بحری طاقت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس وقت بھی تقریباً بیس امریکی بحری جہاز مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں، جبکہ اہم آبی گزرگاہ Strait of Hormuz پر کشیدگی برقرار ہے جہاں امریکی نگرانی اور علاقائی سرگرمیاں جاری ہیں۔
ایران کا واضح پیغام، منطقی مذاکرات کیلئے تیار، دباؤ قبول نہیں،سخت ردعمل کی وارننگ
یہ طیارہ بردار جہاز تقریباً دس ماہ تک سمندر میں تعینات رہا اور اس دوران مختلف آپریشنز میں حصہ لیتا رہا۔ تاہم اس طویل تعیناتی کے دوران اسے متعدد تکنیکی اور عملی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا، جن میں آگ لگنے کا واقعہ اور عملے کو درپیش دیگر مشکلات شامل تھیں۔
امریکی حکام کے مطابق اگرچہ خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی جیسی صورتحال موجود ہے، لیکن حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے اور سیکیورٹی خدشات اب بھی برقرار ہیں۔















