بھارتی فوجی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے بالواسطہ طور پر “آپریشن سندور” میں پیش آنے والی ناکامی کا اعتراف کیا ہے، اگرچہ اسے مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق جنرل چوہان نے مستقبل کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کو پیچھے چھوڑ کر آگے کی تیاری ضروری ہے۔ بھارتی افواج کے درمیان ہم آہنگی کی کمی، خاص طور پر بری، بحری اور فضائی فورسز کے درمیان مؤثر کوآرڈینیشن نہ ہونا، اس آپریشن کی ناکامی کی بڑی وجہ بنی۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بیانیے کو بھی حقیقت سے دور قرار دیا جا رہا ہے۔ نئی حکمت عملی اور “اگلے مرحلے” کی بات دراصل پچھلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف تکنیکی عوامل کو بنیاد بنا کر مجموعی کارکردگی پر پردہ ڈالنا پیشہ ورانہ نقطہ نظر نہیں۔
کینیڈا: 9 ہزار بھارتیوں سمیت 30 ہزار افراد سیاسی پناہ کے لیے نااہل قرار، ملک بدر کرنے کا حکم
دوسری جانب، خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے بیانات عالمی سطح پر امیج بہتر بنانے کی کوشش بھی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب علاقائی توازن اور سفارتی دباؤ اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔مجموعی طور پر یہ معاملہ دفاعی حکمت عملی، عسکری تیاری اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔















