اسلام آباد (اے بی این نیوز)وفاقی درالحکومت اسلام آباد میں اسٹریٹ کرائم کی لہر ،قتل کی7اور چوری کی 43 وارداتیں رپورٹ ہو ئیں اسلام آباد میں امن وامان کی صورت حال تشویش ناک مراحل میں داخل ہو چکی ہے ۔ایک ماہ کےا ندر اسٹریٹ کرائم کے 43وارداتیں رپور ٹ ہوئی جبکہ سات افراد کو موت کے گھاٹ بھی اتار دیا گیا۔پولیس کے دعووں کے باوجود شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں ۔ان وارداتوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے
مجموعی طور پر 105موٹر سایئکلیں اور3گاڑیاں ضبط کر لی گیٗں۔ اسی عرصے میں ڈکیتی اور راہزنی کی 41 وارداتوں نے بھی پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔شہری قیمتی موبا ئل فون اور زیورات سے بھی محروم کر دیے گےٗ۔ذرائع کے مطابق تھانہ ترنول سمیت کیٗ تھانوں میں مقدمہ درج ہی نہیں کیا گیا تا حال ایک بھی مجرم گرفتار نہ کیا جاسکا
جولائی25 کو تھانہ ترنول کے علاقے میں ایک شہری سے اسلحہ کے زور پر موٹرسائیکل اور موبائل فون چھین لیے گئے، تاہم متاثرہ شخص کے بار بار اصرار کے باوجود پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی جبکہ پولیس کا دعوی ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت مصروف ہیں ۔ شہری کے مطابق محرر نے پہلے دن کہا کہ کل آ کر کاپی لے جانا، اگلے دن جانے پر پھر ٹرخا دیا گیا۔ کئی روز گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
متاثرہ شہری نے شکایت کی ہے کہ تھانے کا عملہ واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ ایس ایچ او نے مقدمہ درج کرنے سے منع کیا ہے۔ شہری کے مطابق پولیس افسران بالا کے سامنے اپنی کارکردگی بہتر دکھانے کے لیے مقدمات ہی رجسٹر نہیں کر رہے۔۔اسلام آباد کے شہریوں نے بڑھتی ہوی بدامنی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ قانون نافظ کرنے والے ادارے ان جرائم کی روک تھام کے لیے فوراٰٰ اقدامات کریں اور شہریوں کی جان ومال کی حفاظت یقینی بنائیں۔
مزید پڑھیں :جنگ بندی کے بعد پہلی مرتبہ ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے مابین رابطہ















