اہم خبریں

وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کفایت شعاری مہم کی مبینہ خلاف ورزی کا انکشاف

اسلام آباد (اے بی این نیوز)ملک میں معاشی ایمرجنسی اور وزیرِ اعظم کی کفایت شعاری مہم کے دعوے ایک طرف، لیکن وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے آنے والی خبروں نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر کے زیرِ استعمال ایک دو نہیں بلکہ 11 گاڑیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان گاڑیوں میں وی آئی پی کلچر کی علامت لینڈ کروزر GT-049، تین طاقتور ٹویوٹا ریوو، اور دو ہائی لکس گاڑیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹویوٹا کرولا کے تین مختلف ماڈلز، ایک یارس اور یہاں تک کہ چھوٹی گاڑیاں جیسے کلٹس اور بولان بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کفایت شعاری مہم کی مبینہ خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے۔​وزیرِ اعظم کی 60 فیصد گاڑیاں گراؤنڈ کرنے کی ہدایت، وفاقی وزیر کے پاس 11 گاڑیاں ہونے کا انکشاف ۔ ​wفاقی وزیر کے زیر استعمال لینڈ کروزر، 3 ریوو اور 2 ہائی لکس شامل ہیں  ​ لینڈ کروزر (GT-049) اور ٹویوٹا ریوو (GPA-736, GPA-738, GPB-266) بھی بیڑے میں شامل۔ : ٹویوٹا کرولا (WZ-126, GAB-498, GAA-871) اور ٹویوٹا یارس (FAA-115) بھی زیر استعمال ہونے کا انکشاف۔

​ سوزوکی کلٹس (GAC-596) اور سوزوکی بولان (GAG-387) سمیت ہائی لکس (GBK-961, GK-743) بھی فہرست میں موجود ہیں۔​وفاقی سیکرٹری وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا گاڑیوں کی اس طویل فہرست پر خاموش۔ میرے پاس صرف دو گاڑیاں ،​وفاقی وزیر خالد مگسی کا موقف ۔ 11 گاڑیوں کی فہرست نے سوالات کھڑے کر دیے۔ ذرائع کے مطابق
کیا 60 فیصد گاڑیوں کو گراؤنڈ کرنے کا حکم صرف کاغذوں تک محدود ہے۔ ​پیٹرول کی 50 فیصد بچت کا مشن؛ ایک طرف سخت ہدایات، دوسری طرف گاڑیوں کی بھرمار دوسری نطرف۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر کے زیر استعمال گاڑیوں کی تعداد ایک درجن کے قریب بتائی گئی ہے، جن میں مختلف اقسام کی بڑی اور چھوٹی گاڑیاں شامل ہیں۔ ان میں لینڈ کروزر، ریوو، ہائی لکس، کرولا، یارس، کلٹس اور بولان جیسے ماڈلز کا ذکر کیا گیا ہے، جو بظاہر ایک وسیع سرکاری فلیٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کی جانب سے کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور گاڑیوں کے استعمال کو محدود کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق اعلیٰ سطح پر 60 فیصد گاڑیاں گراؤنڈ کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی، تاکہ ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔وفاقی وزیر نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کے پاس ذاتی طور پر محدود گاڑیاں ہیں، جبکہ زیر استعمال فلیٹ کے حوالے سے مختلف انتظامی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود معاملہ عوامی اور میڈیا حلقوں میں زیر بحث ہے۔

متعلقہ خبریں